سینئر قائدین کے ساتھ جائزہ اجلاس، انتخابی مہم کی حکمت عملی کو قطعیت
حیدرآباد۔ کانگریس پارٹی نے دوباک اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے علاوہ گریجویٹ زمرہ کی 2 ایم ایل سی نشستوں کیلئے سخت مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کے انچارج جنرل سکریٹری مانکیم ٹیگور نے آج قائدین سے انتخابات کے مسئلہ پر علحدہ علحدہ مشاورت کی۔ انہوں نے کہا کہ دوباک کے ضمنی چناؤ میں پارٹی قائدین کو متحدہ طور پر کام کرنا چاہیئے۔ اس کے علاوہ ریاست کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر گریجویٹ زمرہ کی دونوں ایم ایل سی نشستوں پر کانگریس کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ انہوں نے قائدین سے کہا کہ وہ امیدواروں کے انتخاب میں کامیابی کی اہلیت کو اولین ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی دوباک اسمبلی حلقہ کی انتخابی مہم میں حصہ لیں گے۔ وہ تلنگانہ میں پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے ہر منڈل کا دورہ کریں گے۔ 3 اکٹوبر کو وہ دوبارہ حیدرآباد آئیں گے اور ہر دورہ کے موقع پر ریاست کے کم از کم دو منڈلوں کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دوباک اسمبلی حلقہ کے 146 مواضعات میں ہر دو گاؤں کیلئے ایک سینئر قائد کو انچارج مقرر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ہر 7 منڈلوں کیلئے ایک سینئر قائد کو انچارج مقرر کرتے ہوئے انتخابی مہم چلائی جائے گی۔ انہوں نے ورنگل، کھمم ، نلگنڈہ اور حیدرآباد ، رنگاریڈی، محبوب نگر اضلاع پر مشتمل کونسل کی گریجویٹ نشستوں کے سلسلہ میں قائدین سے رائے حاصل کی۔ متعلقہ اضلاع کے ضلع صدور کے علاوہ پارٹی کے اہم قائدین اجلاس میں شریک تھے۔ مانکیم ٹیگور نے کہا کہ ٹی آر ایس اقتدار کے بیجا استعمال اور بھاری رقومات خرچ کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہے۔ کانگریس قائدین کو مستقل طور پر عوام کے درمیان رہتے ہوئے برسراقتدار پارٹی کی دھاندلیوں کو روکنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ گریجویٹ حلقوں میں اہل رائے دہندوں کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اہم عوامی مسائل پر احتجاج کیلئے سب کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کے انتخابات میں ہر قائد خود کو امیدوار تصور کرتے ہوئے ٹیم ورک کی طرح کام کرے۔ دونوں جائزہ اجلاسوں میں صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی کے علاوہ انچارج سکریٹری بوس راج، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، اے آئی سی سی سکریٹری سرینواس کرشنن، ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر، کسم کمار، سابق اپوزیشن لیڈرس جانا ریڈی، محمد علی شبیر، سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا، ارکان پارلیمنٹ ریونت ریڈی، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی، وی ہنمنت راؤ، جی نارائن ریڈی اور متعلقہ اضلاع کے صدور نے شرکت کی۔