کیف۔ کاتیا ہل نے اپنے بھائی سے بات کرنے کی کوشش کی۔ اس نے جمی ہل پر زور دیا کہ وہ یوکرین کا اپنا دورہ ملتوی کردے کیونکہ اس نے سرحد پر قطار میں کھڑی روسی ٹینکوں کی ایک رپورٹ دیکھی ہے۔ لیکن اسے اپنے دیرینہ ساتھی کی مدد کرنا تھی جو مختلف قسم کی اعصابی بیماریوں میں مبتلا تھی۔ اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اگر میں نے اسے کھو دیا تو کیا کروں گا۔ مجھے اس کی بیماری کو بڑھنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنا ہوگی۔ کاتیانے کہا کہ میرے بھائی نے اس کے لیے اپنی جان قربان کردی۔ 68 سالہ جمی ہل شمالی یوکرین کے شہر چرنی ہیو میں ایک روسی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے جس کی ا طلاع جمعرات کو دی گئی تھی، جہاں ان کی ساتھی ارینا ٹیسلینکو کا مقامی اسپتال میں علاج ہورہا تھا۔ اس کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ اور اس کی والدہ شہر چھوڑنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن ان کی حالت ایسی ہے کہ انھیں مدد کے لیے ایمبولینس کی ضرورت ہے اور یہ واضح نہیں آیا انھیں علاج میسر آ سکے گا۔