دونوں شہروں اور اضلاع میں شدید بارش ۔ نشیبی علاقے زیر آب

,

   

تاریخی چارمینار کی ایک مینار کا کچھ حصہ جھڑ گیا ۔ کئی علاقوں میں ٹریفک جام ‘ برقی منقطع ‘ ناگر کرنول میں بجلی گرنے سے دو افراد ہلاک

حیدرآباد۔ 3۔اپریل (سیاست نیوز) بیشتر اضلاع اور دونوں شہروں میں بارش سے گرمی سے کچھ حد تک راحت ضرور ملی لیکن ایک گھنٹہ کی بارش نے شہر کی سڑکوں کو جھیل میں تبدیل کردیا اور کئی مقامات پر بارش کا پانی جمع ہونے سے ٹریفک جام ہوگئی۔ کئی علاقوں میں بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔ تاریخی چارمینار کے شمال مشرقی مینار جس کے نیچے غیر قانونی ڈھانچہ بنا ہوا ہے اس مینار کا ایک حصہ جھڑ گیا لیکن کسی کو کوئی نقصان نہیں ہوا ۔ گذشتہ دنوں مچھلی کمان کے قریب چھت کا ایک حصہ جھڑ گیا تھا جس میں بعض لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ بارش سے پانی میں پھنسنے کے سبب گاڑیاں فیل ہوگئیں جبکہ ٹریفک پولیس کو پانی کی نکاسی کیلئے کوشش کرتے دیکھا گیا ۔ اسی طرح کئی مقامات پر جہاں بارش کا پانی جمع ہوگیا تھا بلدیہ حیدرآباد کے عملہ کو پانی کی نکاسی کرتے دیکھا گیا ۔ کئی علاقوں میں تیز ہواؤں و بارش سے کئی درختوں کے اکھڑ جانے کی اطلاعات ہیں جس کے نتیجہ میں گھنٹوں تک ٹریفک جام رہی ۔ بارش کے سبب کئی نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی شکایات ملیں جس میں ملک پیٹ‘ محبوب چوک‘ کالا پتھر‘ بھوانی نگر‘ نشیمن نگر‘ مولیٰ کا چھلہ ‘ گنگا نگر ‘ چندرا نگر اور یاقوت پورہ کے دیگر کئی علاقوں کے علاوہ سوماجی گوڑہ ‘ خیریت آباد‘ لکڑی کا پل‘ نامپلی ‘ سکندرآباد ‘ بنجارہ ہلز ‘ جوبلی ہلز وغیرہ شامل ہیں۔ راجندر نگر‘ عطا پور‘ بہادرپورہ‘ چندو لعل بارہ دری‘ حسینی علم‘ مغلپورہ ‘ بی بی بازار چوراہا کے علاوہ دبیر پورہ دروازہ کے قریب پانی جمع ہوگیا۔ شہرکے کئی علاقوں میں برقی سربراہی منقطع ہوگئی ۔ سب سے زیادہ بارش سرور نگر میں ریکارڈ کی گئی جہاں84.8 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ حمایت نگر میں بھی 84.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔دوسرے نمبر پر چارمینار کے علاقہ جات رہے جہاں 84 ملی میٹر بارش ریکارڈکی گئی اور تیسرے نمبر پر مشیر آباد جہاں 80.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ۔ بارش کے سلسلہ میں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ دو یوم بھی اسی طرح کی موسلادھار بارش کا امکان ہے ۔ کل خانگی ماہرین کی پیش قیاسی میں کہا گیا تھا کہ 3اپریل کی اولین ساعتوں میں بارش کا سلسلہ شروع ہوگا لیکن دوپہر کے بعد ان بارشوں کے نتیجہ میں شہر کے کئی علاقہ جات زیر آب آگئے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عملہ کو فوری ایمرجنسی عملہ کو متحرک کرتے دیکھا گیا ۔بلدی حکام نے بارش کے دوران شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ گھروں سے نکلنے سے اجتناب کریں کیونکہ شہر کے بیشتر علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے ٹریفک جام ہے اور کئی مقامات پر درخت اکھڑ کرگرنے کے سبب حالات فوری قابو میں نہیں لائے جاسکتے۔ پولیس اور بلدیہ کے اعلیٰ عہدیدار شہر میں سیلاب کی صورتحال پر سڑک پر آگئے اور پانی کی نکاسی کی نگرانی کی۔کئی مقامات پر کاروں پر درختوں کے گرنے سے گاڑیوں کو نقصان پہونچا ۔ ٹولی چوکی‘ شیخ پیٹ‘ مہدی پٹنم ‘ مانصاحب ٹینک‘ و دیگر علاقوں میں بھی موسلادھار بارش کے سبب پانی جمع ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ پنجہ گٹہ فلائی اوور پر پانی جمع ہونے سے برج سے گذرنے والوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا تھا ۔ امیر پیٹ تا کوکٹ راستہ پربارش رکنے کے کئی گھنٹوں بعد تک ٹریفک جام رہی۔ ناگرکرنول ضلع میں بجلی گرنے سے دو افراد کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔ 3