نیویارک : اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی نے جمعہ کو کہا کہ سوڈان میں تشدد سے اب تک دولاکھ 20 ہزار لوگ اپنی جان بچانے کے لیے ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں، جن میں سے 60 ہزار کے لگ بھگ پڑوسی ملک چاڈ کی طرف چلے گئے ہیں۔ جنیوا میں ایک نیوز بریفنگ میں، اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے کی ترجمان اولگا ساراڈو نے کہا کہ صرف پچھلے کچھ دنوں میں 30 ہزار افراد چاڈ میں داخل ہوئے ہیں، اور روزانہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد سرحدیں عبور کر رہی ہے۔ انہوں نے اس رپورٹ کی طرف توجہ دلائی جس میں ، منگل کو مہاجرین کی بین الاقوامی تنظیم یا IOM نیکہا ہے کہ سوڈان میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد 7 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ خبر سوڈان کے متحارب فریقوں کی جانب سے ملک میں انسانی امداد کی اجازت دینے کے لیے قائد خطوط طے کرنے سے متعلق ایک دستاویز پر دستخط کیے جانے کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ تاہم، مذاکرات میں شامل ایک امریکی اہل کار نے بتایا کہ اس دستاویز میں جنگ بندی شامل نہیں تھی۔ سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے وولکر پرتھیس نے ویڈیو لنک کے ذریعہ جمعہ کی نیوز بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ جنگ بندی پر بات چیت جمعہ یا ہفتہ تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا سب سے اہم حصہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے بات چیت جاری رکھنے کا عزم کیا۔ پرتھیس نے کہا کہ دونوں فریقوں نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے چار ہفتوں کے دوران دستخط کیے لیکن جنگ بندی معاہدے کو نظر انداز کیا ہے کیونکہ دونوں کو یقین ہے کہ وہ جیت سکتے ہیں، اور وہ اپنی پوزیشن کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔