دو مرحلوں کی رائے دہی کے قطعی اعدادوشمار ہنوز نامعلوم

   

الیکشن کمیشن کا رویہ شکوک و شبہات پیدا کررہا ہے، سیتارام یچوری کا دعویٰ
حیدرآباد۔30اپریل(سیاست نیوز) الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ملک میں 190 حلقہ جات پارلیمان میں ہوئی رائے دہی کے قطعی فیصد (تناسب) جاری نہ کرتے ہوئے شکوک و شبہات پیدا کرنے شروع کردیئے ہیں اور زائد از ایک ماہ جاری رہنے والے اس انتخابی عمل کے دوران اگر پہلے اور دوسرے مرحلہ کی رائے دہی کا فیصد ہی رائے دہی کے 10 دن بعد بھی جاری نہیں کیاجاتا ہے تو ایسی صورت میں سیاسی جماعتوں کے قائدین اور انتخابی عمل سے تعلق رکھنے والوں میں تشویش پیدا ہونا یقینی ہے۔ انڈیا اتحاد کی اہم حلیف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے قومی جنرل سیکریٹری مسٹر سیتارام یچوری نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے قطعی اعداد وشمار جاری نہ کئے جانے اور تمام حلقہ جات پارلیمان میں استعمال کردہ ووٹوں کے متعلق تفصیلات نہ جاری کئے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن کی جانب سے ایسا نہیں کیاجاتا ہے تو نتائج میں دھاندلی کے خدشات میں اضافہ ہوگا ۔ ہندستان میں پہلے مرحلہ کی رائے دہی کا عمل 19اپریل کو مکمل ہوا جس میں 102 حلقہ جات پارلیمان میں رائے دہی ہوئی جبکہ دوسرا مرحلہ 26 اپریل کو اختتام کو پہنچا جس میں 88 حلقہ پارلیمنٹ میں رائے دہی ہوئی لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ویب سائٹ پر اب تک بھی مستعملہ ووٹوں کی قطعی تعداد یا فیصد جاری نہیں کیا گیا ہے اور اب بھی ویب سائٹ کے مطابق اندازۃفیصد اور اعداد وشمار جاری کئے گئے ہیں۔ مسٹر یچوری نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ رائے دہندوں ‘ عوام اور سیاسی جماعتوں کے قائدین میں الیکشن کمیشن کے اعتماد کو برقرار رکھنے کیلئے فوری طور پر تمام حلقہ جات پارلیمان جہاں رائے دہی کا عمل مکمل ہوچکا ہے ان حلقہ جات پارلیمان میں استعمال کئے گئے ووٹوں کی تعداد اور قطعی فیصد جاری کیا جائے ۔ طویل مدت تک مستعملہ ووٹوں کی قطعی تعداد کا نہ بتایا جانا انتخابی نتائج میں دھاندلیوں کے شبہات پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لئے الیکشن کمیشن کو فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ان خدشات کو دور کرنے کے اقدامات کرنے چاہئے ۔3