آن لائن گیم سے رقم جیتنے کا لالچ، کئی افراد رقم سے محروم، پولیس کی گہری نظر
حیدرآباد: آن لائن دھوکہ دہی کے نت نئے طریقہ کار شہریوں کو کنگال کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور شہری آن لائن گیمس کے ذریعہ دولت کمانے کے چکر میں لاکھوں روپیوں سے محروم ہورہے ہیں۔ نظام آباد میں پیش آئے واقعہ میں تین دوست 1.5لاکھ روپئے سے محروم ہوچکے ہیں اور ان کا کہناہے کہ Burse نامی آن لائن گیم کھیلتے ہوئے رقم جیتنے کے چکر میں وہ اپنے دیڑھ لاکھ روپئے سے محروم ہوچکے ہیں۔نظام آباد میں تین دوستوں سے رقم سے محرومی کے بعد پولیس سے رجوع ہوتے ہوئے اس بات کی شکایت درج کروائی کہ آن لائن گیم کے دوران انہیں ٹھگ لئے جانے کا خدشہ ہے اسی لئے وہ شکایت درج کروارہے ہیں۔ہریش نامی نوجوان نے بتایا کہ وہ آن لائن گیم کے سلسلہ میں ابتداء میں 3000 روپئے جیتنے میں کامیاب ہوا اور جب وہ گیم کے مزید مرحلوں کو کھیلنے کی کوشش کررہا تھا تو اسے ایپ میں کہا گیا کہ اس کے لئے انہیں اپنے فون نمبر کے علاوہ بینک کھاتہ کی تفصیلات اور دیگر کا اندراج کرنا ہوگا اس کے بعد ہی وہ آگے کے مراحل کھیل پائیں گے جس پر انہوں نے اپنی تمام تفصیلات درج کروائی اور اس کے بعد انہیں 30ہزار روپئے جمع کرنے کیلئے کہا گیا لیکن یہ رقم جمع کرنے کے باوجود بھی انہیںکھیل کے آگے کے مراحل فراہم نہیں کئے گئے جس پر وہ شبہات کا شکار ہونے کے بعد پولیس سے رجوع ہوئے ہیں ۔ ہریش نے پرشانت اور چندرشیکھر نامی اپنے دوستوں کو بھی ایسا کرنے کیلئے کہا اور ان لوگوں نے بھی اس گیم کو آن لائن کھیلنے کیلئے رقم جمع کروائی اور اب ایپ کی جانب سے نہ رقم واپس کی جا رہی ہے اور نہ ہی گیم کھیلنے کا موقع دیا جا رہاہے ۔ تینوں نوجوانوں نے نظام آباد پولیس سے رجوع ہوتے ہوئے اس سلسلہ میں تحریری شکایت درج کروائی اور کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ آن لائن دھوکہ دہی کا یہ نیا طریقہ کار ہے جس کے ذریعہ انہیں لوٹ لیا گیا ہے۔ محکمہ پولیس کی جانب سے مسلسل اس بات کا اصرار کیا جا رہاہے کہ نوجوان کسی بھی طرح کی آن لائن دھوکہ دہی کا شکار ہونے سے محفوظ رہنے کیلئے اپنے بینک کی تفصیلات کسی بھی ایپ یا آن لائن ادارہ کو فراہم نہ کریں اور نہ ہی آن لائن گیمس پر توجہ دیں لیکن اس کے باوجود اس طرح کے گیمس میں نوجوانوں کی دلچسپی انہیں نقصان پہنچانے کا سبب بن رہی ہے۔پولیس ان گیم ایپ کا جائزہ لے رہی ہے اور اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ یہ ایپ کہا ں سے چلائے جا رہے ہیں۔