دیرینہ مطالبات کی تکمیل کیلئے سرکاری ملازمین نے احتجاجی لائحہ عمل جاری کیا

   

5 مئی کو حیدرآباد میں دھرنا، 15 مئی کو ضلع ہیڈکوارٹرس پر احتجاج، جے اے سی نے 37 مطالبات پیش کئے
حیدرآباد۔/30 اپریل ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کے سرکاری ملازمین نے دیرینہ مطالبات کی یکسوئی کیلئے 5 مئی کو حیدرآباد میں جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری ملازمین، ٹیچرس، ورکرس اور پنشنرس پر مشتمل جائنٹ ایکشن کمیٹی نے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے۔ جائنٹ ایکشن کمیٹی کے جنرل سکریٹری سرینواس راؤ کے مطابق 15 مئی کو ریاست کے تمام ضلع ہیڈکوارٹرس پر احتجاجی دھرنے منظم کئے جائیں گے۔ جائنٹ ایکشن کمیٹی نے حیدرآباد میں 9 جون کو ’ مہا دھرنا‘ منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرس زیر التواء 6 ڈی اے جاری کرنے کی مانگ کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیگر مطالبات پر مشتمل یادداشت حکومت کے مشیر ڈاکٹر کے کیشو راؤ کو پیش کی ہے۔ جائنٹ ایکشن کمیٹی نے تلنگانہ حکومت کو جملہ 37 مطالبات پیش کئے جو کئی برسوں سے زیر التواء ہیں۔ ڈاکٹر کے کیشو راؤ نے ملازمین کے نمائندوں کو تیقن دیا کہ وہ کابینی سب کمیٹی سے اُن کے مطالبات کو رجوع کرتے ہوئے یکسوئی کے اقدامات کریں گے۔ جائنٹ ایکشن کمیٹی نے طویل مذاکرات کے بعد یادداشت تیار کی ہے۔ ملازمین کارپوریٹ ہاسپٹلس میں کیاش لیس ٹریٹمنٹ کے علاوہ میڈیکل ری ایمبرسمنٹ کی حد میں اضافہ، زیر التواء میڈیکل بلز کی اجرائی اور فنڈز گرین چینل سے جاری کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہر سال اپریل تا مئی جنرل ٹرانسفارس کی مانگ کررہے ہیں جو میڈیکل گراؤنڈ اور شوہر اور بیوی کے ایک ہی مقام پر ملازمت کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں۔ جی او 317 پر عمل آوری کا جے اے سی نے مطالبہ کیا ہے۔ جنوری 2015 سے ملازمین کے ڈی اے جاری نہیں کئے گئے، اس کے علاوہ 51 فیصد فٹمنٹ کی اجرائی کا مطالبہ بھی پورا نہیں ہوا۔ جائنٹ ایکشن کمیٹی میں ڈپٹی کلکٹرس اسوسی ایشن کے علاوہ ٹیچرس اور مختلف محکمہ جات کے ملازمین کی تنظیمیں اور ریٹائرڈ ایمپلائز یونین شامل ہیں۔1