دیشا کیس کے ملزمین کا انکاونٹر ‘ سرپورکر کمیشن میں سجنار پر جرح

   

حیدرآباد۔/12 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) آر ٹی سی کے نائب صدر نشین و منیجنگ ڈائرکٹر مسٹر وی سی سجنار نے آج دوسری مرتبہ سرپورکر کمیشن کے اجلاس پر پیش ہوکر اپنا بیان قلمبند کروایا ۔ کمیشن کے وکلاء نے ان پر جرح کی۔ دیشا انکاؤنٹر کیس میں ہلاک چار ملزمین کی تحقیقات کیلئے قائم سرپورکر کمیشن کے روبرو سابق پولیس کمشنر سائبرآباد نے بتایا کہ وہ انکاؤنٹر اسپیشلسٹ نہیں ہیں اور انہیں انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کیوں کہا جاتا ہے اس بات کا علم نہیں ہے۔ وکلاء نے سجنار سے سینکڑوں سوال کئے جس میں یہ بھی پوچھا گیا کہ تحقیقات کے دوران موقع واردات پر دوبارہ ملزمین کو لے جانے کے وقت پولیس کی بندوقوں کو کیوں اَن لاک رکھا گیا جبکہ میڈیا کانفرنس میں اس کی توثیق کی گئی۔ سجنار نے کہا کہ بندوقوں کو اَن لاک نہیں کیا گیا تھا۔ کمیشن نے یہ بھی سوال کیا کہ سال 2008 ، سال 2016 اور دیشا کیس کے سال 2019 انکاؤنٹر میں مماثلت ہے۔ جس کے جواب میں سجنار نے کہا کہ 2016 میں ایسیڈ حملہ کے ملزمین کا انکاؤنٹر کیا گیا تھا اور اس وقت ورنگل ایس پی تھے جبکہ 2016 میں ان کا تعلق لاء اینڈ آرڈر شعبہ سے نہیں تھا۔ مسلسل سوالات کے دوران سجنار نے اپنے موقف پر اٹل رہے کہ ڈپٹی کمشنر پولیس شمس آباد کے مشورہ پر انہوں نے یہ کارروائی کی ہے۔ تقریباً دو گھنٹے سے زیادہ طویل جرح میں سابق سائبر آباد پولیس کمشنر نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔ب