دیگلور کے چار غریب طلباء ایم پی ایس سی کیلئے منتخب

   

بابا صاحب امبیڈکر میونسپل کونسل اسٹیڈی سنٹر کا کارنامہ، شرشیٹوار کی جانب سے خیرمقدم

دیگلور۔ 15 ڈسمبر ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مہاراشٹرا پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں دیگلور کے تین اسٹوڈنٹس ٹیکس آفیسر اور چوتھا اسسٹنٹ کوآپریٹیو آفیسر کے عہدے پر منتخب ہوئے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ چاروں طالب علم بھی متوسط طبقے کے کسان گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی معاشی حالت انتہائی کمزور بتلائی گئی ہے۔ آج کے اس مسابقتی و خودغرضی کے دور میں کئی سرپرست اپنے اپنے فرزندان کو مسابقتی امتحانات کی تیاری کروانے کے لیے یہ ایم پی ایس سی ، اسٹاف سلیکشن کمیشن وہ دیگر حکومت کے سرکاری امتحانات میں شرکت کرانے کے لیے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے پونے، ممبئی اور اورنگ اباد جیسے بڑے بڑے شہروں میں لاکھوں روپے خرچ کرکے ممتاز ومہنگے کوچنگ انسٹیٹیوٹ،فائیو اسٹار ہاسٹلس میں شریک کرواتے ہیں۔ جبکہ دیگلور جیسے بیلٹ علاقے میں رہتے ہوئے ان چار متوسط طبقے کے طالب علموں نے سابق صدر بلدیہ موگلاجی شرشٹوار اور کانگریس و راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے شروع کردہ ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ڈیجیٹل اسٹڈی سینٹر برائے مسابقتی امتحانات جس کے سبب یہ چاروں طالب علم نے یہاں کی عصری لائبریری و اسٹڈی سینٹر سے بھرپور استفادہ کیا اور اپنے خاندانوں۔ کا نام ہی نہیں بلکہ دیگلور شہر کا نام ریاست کے نقشہ پر لایا ہے۔ دیگلور کے سچین ماروتی راؤ کڑلوار نے کوآپریٹیو آفیسر کے لیے سلیکٹ ہوئے جبکہ شیام ملک اننا بھنڈروار،ناگیش ایلاپپا نیمملوار اور راہول شنکر راؤ گوڈلاوار انہوں نے ایم۔ پی۔ ایس۔ سی۔ میں سیلز ٹیکس آفیسرکے عہدوں کیلئے سیلیکٹ ہوئے ہیں۔ یہاں پر یہ ذکر ضروری ہوگا کہ آج سے ڈھائی سال قبل دیگلور میؤنسپل کونسل کی جانب سے انتہائی عصری مسابقتی اعلٰی تعلیم، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر ڈیجیٹل اسٹڈی سینٹر، اور عصری لائبریری کا قیام سابق صدر موگلاجی شرشٹوار اور سابق نائب صدر اویناش نیلم وار اسطرح سے کانگریس اور راشٹروادی پارٹی کی کونسلرز کے بھرپور تعاون سے افتتاح کیا گیا تھا جس کے فروٹس آج حاصل ہو رہے ہیں۔ ایک خصوصی تقریب میں ان چار نوجوانوں کا ان کے والدین کے ساتھ پرتپاک خیر مقدم وہ استقبال کیا گیا تب ان کے والدین اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کو نہیں روک سکے اور انہوں نے کونسلرز کا شکریہ ادا کیا۔