رائلسیما پراجکٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں سماعت ملتوی

   

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد رجوع ہونے درخواست گزاروں کو ہدایت
حیدرآباد : تلنگانہ ہائی کورٹ میں رائلسیما لفٹ اریگیشن اسکیم کے خلاف دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کو غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس مقدمہ کی یکسوئی کے بعد ہی ہائی کورٹ اس معاملہ کی سماعت کرے گا ۔ اس پراجکٹ سے وابستہ بعض دیگر مسائل نیشنل گرین ٹریبونل میں زیر التواء ہیں۔ چیف جسٹس راگھویندر سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کانگریس کے قائد ومشی چند ریڈی اور وقار آباد کے مقامی افراد کی درخواست پر یہ فیصلہ دیا۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو اجازت دی کہ وہ سپریم کورٹ میں فیصلہ کے بعد دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوں۔ یہ پہلا موقع تھا جب سیاسی اختلافات فراموش کرتے ہوئے سرکاری وکیل نے درخواست گزاروں کی جانب سے پیروی کی۔ آندھراپردیش کے ایڈوکیٹ جنرل ایس سری رام نے بتایا کہ یہی درخواست گزار نیشنل گرین ٹریبونل سے رجوع ہوئے ہیں اور انہیں کوئی فیصلہ حاصل نہیں ہوا۔ اس مرحلہ پر چیف جسٹس چوہان نے درخواست گزار ومشی چند ریڈی پر برہمی کا اظہار کیا اور انتباہ دیا کہ ان کی درخواست کو مسترد کردیا جائے گا۔ تلنگانہ کے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل جے رام چندر راؤ نے عدالت کو بتایا کہ نیشنل گرین ٹریبونل میں ماحولیات سے متعلق امور زیر التواء ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت ٹریبونل اور ہائی کورٹ کے درمیان مباحث کے دوران دوہرا معیار اختیار کر رہی ہے۔ رام چندر راؤ نے کہا کہ آندھراپردیش حکومت مرکز کی سیاسی مدد کے ذریعہ پراجکٹ کے کام کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھراپردیش تنظیم جدید قانون کی خلاف ورزی کی گئی۔