راجستھان اور گجرات میں آج پہلے مقام کا مقابلہ

   

جے پور ۔ گجرات ٹائٹنز جمعہ کو انڈین پریمیئر لیگ میں جب وہ ایک طاقتور حریف راجستھان رائلز سے مقابلہ کریں گے، جو ہاردک پانڈیا کی زیرقیادت ٹیم کے پہلے مقام کو چیلنج کرے گی۔ دونوں ٹیمیں شکست سے دوچار ہیں اور جیتنے کے راستے پر واپس آنے کی کوشش کریں گی۔ گجرات ٹائٹنز گزشتہ مقابلہ دہلی کیپٹلس سے پانچ رنز سے ہارنے کے باوجود پوائنٹس ٹیبل پر 12 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ راجستھان رائلز چوتھے نمبر پر ہے اور اس کے 10 پوائنٹس ہیں۔ سنجو سیمسن کی زیرقیادت ٹیم میں کافی صلاحیت ہے لیکن وہ حال ہی میں جیتنے والی دوڑکو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے۔ راجستھان نے اپنے آخری چھ میچوں میں تین میچ ہارے ہیں اور زیادہ سے زیادہ تین جیتے ہیں۔ ممبئی انڈینزکے خلاف اپنے آخری میچ میں، بہت زیادہ اہم بولنگ شعبہ 212 کا دفاع کرنے میں ناکام رہا۔ فاسٹ بولر ٹرینٹ بولٹ، آل راؤنڈر جیسن ہولڈر، اسپنر یوزویندر چہل اورکلدیپ سین سبھی نے رن دیے۔ وہ جمعہ کوگھر میں بہتر مظاہروں کی امید کریں گے۔ رائلز اس حقیقت سے تھوڑا سا سکون لے سکتے ہیں کہ وہ جی ٹی کے خلاف سیزن کے اوائل میں جیت درج کرچکے ہیں۔ راجستھان کے پاس رنز بنانے کے لیے اپنی بیٹنگ لائن اپ میں طاقت ہے۔ نوجوان یاشاسوی جیسوال عمدہ رنز کے سلسلہ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں لیکن ٹیم کو جوس بٹلر، سنجو سیمسن اور شمرون ہیٹمائر سے بڑی اننگز کی ضرورت ہے۔ جب وہ محمد سمیع اور ذہین اسپنر راشد خان کی قیادت میں طاقتور جی ٹی بولنگ شعبہ کا مقابلہ کریں گے تو ان کا کام اننگز کو ختم کرنے کا ہوگا ۔ سوائی مان سنگھ اسٹیڈیم میں راجستھان، جس کا نیٹ رن ریٹ 800 ہے، کی جیت انہیں ٹیبل کے اوپر لے جائے گی۔ دوسری طرف ٹائٹنزکو کیپٹلز کے خلاف اپنی کمزور بیٹنگ میں بہتری کا مظاہرہ کرنا ہوگا جہاں وہ 130 کا تعاقب کرنے میں ناکام رہے۔ یہ وہ دن تھا جب فارم میں موجود شبمن گل اور ڈیوڈ ملر ناکام رہے اور کپتان پانڈیا، جنہوں نے اننگز سے ٹیم کی مدد کی اور نصف سنچری بھی اسکور کی لیکن انہوں نے ناکامی کا ذمہ اپنے اوپر لیا اور کہاکہ وہ اختتامی اوورس میں تیزی لانے میں ناکام رہے۔ بولنگ شعبہ تاہم عروج پر تھا۔ تجربہ کار محمد سمیع نے اپنی بولنگ میں رفتار اور سوئنگ کا شاندار مظاہرہ کیا اور دہلی کے بیٹرس کو انتہائی پریشان کن حالات میں ڈال دیا تھا ۔اسپن شعبہ کی قیادت ہمیشہ قابل اعتماد راشد کر رہے ہیں، جن کے پاس ایک اور افغانی بولر نور احمد ہے جو اس جوڑی کو خطرناک بنا رہے ہیں ۔گزشتہ مقابلے میں جی ٹی کی بیٹنگ تاش کے پتوں کی طرح بیکھر گئی تھی اور اگر پانڈیا نصف سنچری اسکور نہ کرتے تو ٹیم کی شکست مزید شرمناک ہوتی ۔