راجہ سنگھ کی گرفتاری مسلم نوجوانوں کے حب رسول ؐ اور مصلحت سے عاری جدوجہد کا نتیجہ

   


پولیس کی لاٹھیاں حوصلے پست کرنے میں ناکام ۔ دیوان خانوں کے ’ مجاہدین ‘ بھی مبارکباد دینے پر مجبور
حیدرآباد25اگسٹ(سیاست نیوز) مسلم نوجوانوں نے پولیس مظالم برداشت کرنے اور اپنے جسموں پر لاٹھیاں جھیلنے باوجود جدوجہد کرتے ہوئے ملعون کی گرفتاری کے مطالبہ پر ڈٹے رہنے کا جو مظاہرہ کیا وہ حقیقت میں محبان رسول ﷺ کی فہرست میں اپنا نام درج کروانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور تین راتوں سے اس جدوجہد کو لاکھ رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود جاری رکھنے والے نوجوانوں کو امید ہے کہ اللہ اپنے کارخانہ ٔ قدرت سے لازوال نعمتوں سے مالامال فرمائیگا۔ ملعون کے خلاف نوجوانوں نے جن حالات میں صدائے احتجاج بلندکیا وہ ہر نوجوان کے جذبۂ ایمانی کی دلیل اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے جنہوں نے احتجاج کوپر امن رکھنے کی ممکنہ کوشش کی اور بڑی حد تک کامیاب بھی رہے۔ شاہ علی بنڈہ کے قریب رہائشی علاقہ قاضی پورہ میں گذشتہ شب پولیس نے نوجوانوں پر بے تحاشہ لاٹھیاں برسائیں لیکن نوجوانوں نے خوف میں مبتلاء ہوئے بغیر آج ایک مرتبہ پھر سے ترنگوں کے ہمراہ کمشنر پولیس کے دفتر بشیر باغ پہنچ کر احتجاج کیا ۔رکن اسمبلی گوشہ محل کے گستاخانہ ویڈیو کی اجرائی پر شروع ہوئے احتجاج کیلئے کسی گوشہ سے اپیل نہیں کی گئی تھی لیکن نوجوانوں نے حب رسولﷺ کی بنیاد پر متحدہ ہوکر اپنے عظیم الشان عزم واستقلال کا ثبوت پیش کیا اورتین یوم تک سراپا احتجاج بنے رہے ۔ عشق رسولؐ کے دعوے کرنے والوں نے دیوان خانو ںمیں اجلاس منعقد کرکے پولیس عہدیدارو ںکی ہدایات کے مطابق ویڈیو بنائے اور ان نوجوانوں کو صبر و تحمل کا مشورہ دیا اسی طرح بعض گوشوں نے بھی نوجوانوں کے احتجاج کو کمزور کروانے کی کوشش کی لیکن سلام ان نوجوانوں پر جنہوں نے روز اول سے اپنے مطالبہ کی شدت میں کوئی کمی آنے نہیں دی جس کے نتیجہ میں اندرون تین یوم اس غیر منظم احتجاج کے نتائج برآمد ہوچکے ہیں۔ نوجوانوں کو صبر کی تلقین اور منظم احتجاج کے اعلان تک خاموش رہنے کی تاکید کرنے کے علاوہ ویڈیو میں راجہ سنگھ کے خلاف جذبات کا اظہار کرنے والوں نے بھی ملعون کی گرفتاری پر مبارکبادی کے پیامات روانہ کرکے اسے مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا جبکہ یہ کوششیں نوجوانوں کی ٹولیوں کی ہی تھیں جس پر حکومت اور منتخبہ عوامی نمائندوں کو ان کی آواز میں آواز ملانی پڑی۔ راجہ سنگھ کی گرفتاری اور اسے جیل بھیجنے کے ساتھ ہی شہر کے مختلف مقامات پر نوجوانوں نے بارگاہ الٰہی میں سجدۂ شکر ادا کیا اور کہا کہ خلوص دل اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے شروع کی گئی اس جدوجہد میں اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی بڑی قربانی کے کامیابی عطا فرمائی ۔نوجوانوں نے جو حکمت عملی تیار کی وہ’ روڈ کی لڑائی روڈ پر اور کورٹ کی لڑائی کورٹ میں ‘کے نظریہ کے تحت شروع کی گئی تھی جس میں کامیابی نے نوجوانوں کے حوصلوں کو بلند کردیا ۔نوجوانان ملت اسلامیہ جو روڈ کی لڑائی اور کورٹ کی لڑائی میں فرق کرکے شعور بیدار کر رہے ہیں ان کا کہناہے کہ بابری مسجد ہویا کوئی اور معاملہ ہوشرپسند عناصر نے کورٹ سے پہلے روڈ پر کامیابی حاصل کی جس کے نتیجہ میں انہیں کامیابیاں ملتی گئیں اور حیدرآباد میں نوجوانوں نے پہلی مرتبہ اس حکمت عملی کو اختیار کیا جس میں اللہ ان کا حامی و ناصر رہا۔م