راجیہ سبھا کی دو نشستوں کیلئے کانگریس میں ’’ایک انار سو بیمار‘‘ کی صورتحال

   

ایک نشست کیلئے تقریباً 20 دعویدار، ہائی کمان کیلئے فیصلہ کرنا آسان نہیں
حیدرآباد۔ یکم؍ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ سے راجیہ سبھا کی دو نشستوں کے لئے 16 مارچ کو ہونے والے انتخابات میں کانگریس امیدواروں کا انتخاب پارٹی ہائی کمان کے لئے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ راجیہ سبھا کے دو ارکان ابھیشیک منوسنگھوی اور کے آر سریش ریڈی کی میعاد اپریل میں ختم ہو رہی ہے۔ الیکشن کمیشن نے ملک کی دیگر ریاستوں میں راجیہ سبھا کی نشستوں کے ساتھ تلنگانہ کی دو نشستوں کے لئے بھی انتخابات کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی ہائی کمان ایک نشست پر سپریم کورٹ کے وکیل ابھیشیک منوسنگھوی کو دوبارہ امیدواری کے حق میں ہے جبکہ ایک نشست کے لئے کانگریس پارٹی نے دعویداروں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ہائی کمان کی سطح پر ابھی تک ایک نشست کے لئے تقریباً 20 سے زائد سینئر قائدین نے اپنی دعویداری پیش کردی ہے۔ کانگریس پارٹی کی صورتحال ’’ایک انار سو بیمار‘‘ کے مصداق بن چکی ہے اور ریاستی اور ہائی کمان کے سطح پر ایک نام کو قطعیت دینا آسان نہیں ہے۔ ہائی کمان نے اسمبلی انتخابات کے موقع پر ٹکٹ سے محروم بعض قائدین کو راجیہ سبھا نشست کا تیقن دیا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ 10 برسوں میں کسی بھی سرکاری عہدے سے محروم سینئر قائدین بھی اس عہدے کے لئے دوڑ دھوپ کررہے ہیں۔ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے ان سے ملاقات کرنے والے کئی قائدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ امیدواری کے سلسلہ میں چیف منسٹر، صدر پردیش کانگریس اور اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ سے رجوع ہوں۔ راجیہ سبھا نشست کے اہم دعویداروں میں چیف منسٹر کے مشیر وی نریندر ریڈی، سابق وزیر جانا ریڈی، سینئر لیڈر وی ہنمنت راؤ، ڈاکٹر جی چنا ریڈی، جیون ریڈی، کودنڈا ریڈی، ومشی چند ریڈی اور دوسرے شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اس نشست کے لئے ابتداء میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج سدرشن ریڈی کے نام کی سفارش کی تھی لیکن پارٹی قائدین کے دباؤ کے تحت اس تجویز کو واپس لے لیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے کسی قائد کو راجیہ سبھا کے لئے نامزد کرنے کی تیاری ہے۔ ریاست میں دو نشستوں کا الیکشن متفقہ ہوگا یا پھر رائے دہی ہوگی اس بارے میں سیاسی مبصرین قیام آرائیوں میں مصروف ہیں۔ بی آر ایس اگر ایک نشست کے لئے مقابلہ کرتی ہے تو رائے دہی کے ذریعہ امیدواروں کا انتخان ہوگا۔ اسمبلی میں عددی طاقت کے اعتبار سے کانگریس کو سی پی آئی اور مجلس کی تائید حاصل ہے اور بی آر ایس کے 10 منحرف ارکان تائید کریں تو دونوں نشستوں پر کانگریس کے امیدوار بہ آسانی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ بی آر ایس نے منحرف ارکان کو پارٹی وہپ کی خلاف ورزی سے روکنے اور کانگریس کے لئے دشواری پیدا کرنے کے مقصد سے ایک نشست پر مقابلہ کا من بنایا ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ پارٹی سربراہ کے سی آر کریں گے۔ 1