تلنگانہ قانون ساز کونسل میں مسلم نمائندگی نظر انداز کرنے کے بعد تیقنات اکارت ثابت
حیدرآباد۔5مئی (سیاست نیوز) ٹی آر ایس تلنگانہ قانون ساز کونسل میں مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کے بعد اب راجیہ سبھا کے معاملہ میں بھی مسلمانوں کو نظر انداز کرنے کی منصوبہ بندی کرچکی ہے اور کہا جا رہاہے کہ پارٹی کی جانب سے ماہ جون میں راجیہ سبھا کے ارکان کے انتخاب کے سلسلہ میں جاری سرگرمیوں کا حصہ کوئی
مسلمان باقی نہیں ہے بلکہ ریاست کے سرکردہ تاجرین راجیہ سبھا کی نشست پر نظریں جمائے ہوئے ہیں اور تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے انتخابی سال کو نظر میں رکھتے ہوئے تاجرین کو ہی راجیہ سبھا روانہ کرنے پر غور کیا جا رہاہے۔ ماہ جون میں ڈی سرینواس‘ کیپٹن لکشمی کانت اور بنڈا پرکاش مدیراج کی معیاد کی تکمیل کے ساتھ ہی ریاست تلنگانہ سے 3نشستیں خالی ہوں گی اور ان تینوں نشستوں پر تلنگانہ راشٹر سمیتی کی کامیابی یقینی ہے ۔کیپٹن لکشمی کانت راؤ کو دوسری معیاد کے لئے دوبارہ موقع فراہم کئے جانے کی گنجائش ہے جبکہ مابقی دو نشستوں کے لئے جو نام زیر گشت ہیں ان میں کسی بھی مسلم قائد کا نام شامل نہیں ہے بلکہ نمستے تلنگانہ کے سی ایم ڈی سی لکشمی راجم کے علاوہ ڈی دامودر راؤ اور مائی ہوم کے مالک جوپلی رامیشور راؤ کے نام زیر گشت ہیں۔بتایا جاتاہے کہ نمستے تلنگانہ کے سی ایم ڈی سال 2014 سے ہی راجیہ سبھا کی نشست کے حصول کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن چند ماہ قبل ان کے چیف منسٹرکے چندر شیکھر راؤ سے تعلقات بگڑ جانے کے بعد کہا جا رہاتھا کہ انہیں راجیہ سبھا کے لئے نامزد کئے جانے کے امکانات موہوم ہیں لیکن یادادری مندر کے افتتاح کے دوران لکشمی راجم کو ساتھ ساتھ دیکھنے کے بعد اب دوبارہ یہ قیاس لگایا جارہا ہے کہ وہ راجیہ سبھا کی دوڑ میں شامل ہیں۔ان تینوں سرکردہ تاجرین کے علاوہ فلم ایکٹرپرکاش راج جو کہ فی الحال کے چندر شیکھر راؤ کے قریبی مانے جا رہے ہیں ان کے علاوہ مندا جگناتھم‘ پی ایل سرینواس‘ ایم نرسمہلو‘ سیتا رام نائک کے علاوہ پی سرینواس ریڈی کے نام بھی پارٹی حلقوں میں گشت کر رہے ہیں۔تلنگانہ قانون ساز کونسل کے ارکان کی نامزدگی کے معاملہ میں تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے مسلمانوں کو نظر انداز کیا گیاتھا لیکن اس وقت پارٹی میں موجود مسلم قائدین کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ چیف منسٹر ’’نمبر ون‘‘ سیکولر سی ایم ہیں اور وہ راجیہ سبھا میں مسلمانوں کو لازمی نمائندگی فراہم کریں گے۔مرحوم سابق ریاستی وزیر محمد فرید الدین کی معیاد کی تکمیل کے بعد جن ارکان قانون ساز کونسل کو نامز کیا گیا ان میں مسلمانوں کو نمائندگی نہ دیئے جانے پر پارٹی کے مسلم حلقوں میں بے چینی پائی جانے لگی تھی لیکن غلامانہ ذہنیت کے حامل پارٹی قائدین کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا تھا کہ راجیہ سبھا میں نامزدگیوں میں مسلمان کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا لیکن اب جبکہ راجیہ سبھا کے لئے انتخابات کا وقت قریب آتاجا رہاہے مسلمانوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جار ہی ہے کہ ان کے پاس کوئی قابل شخص نہیں ہے اسی لئے حکومت کی جانب سے صدورنشین کے عہدوں پر ہی مسلم قائدین کو محدود کرنے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جبکہ تاجرین راجیہ سبھا کی دوڑ میں شامل ہوچکے ہیں۔ م