رام مندر ریالی میں شرکت پر ٹی آر ایس رکن اسمبلی کو برطرف کیا جائے

   

محمد علی شبیر کا مطالبہ ، چیف منسٹر اپنا سیکولرازم ثابت کریں
حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے مطالبہ کیا کہ رام مندر کی تعمیر کیلئے عطیہ وصول کرنے کی مہم میں شرکت کرنے والے رکن اسمبلی کرانتی کرن کو پارٹی سے برطرف کردیں۔ انہوں نے اندول کے رکن اسمبلی کرانتی کرن کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے بی جے پی اور سنگھ پریوار کی جانب سے رام مندر کی فنڈنگ سے متعلق ریالی میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ عوام سے عطیات حاصل کئے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی آر ایس رکن اسمبلی کا یہ اقدام ریاست میں ٹی آر ایس اور بی جے پی کی ملی بھگت کو ثابت کرتا ہے ۔ تلنگانہ میں دونوں پارٹیاں فرقہ وارانہ ایجنڈہ پر عمل پیرا ہیں۔ حالیہ بلدی انتخابات اور دوباک میں شکست کے بعد سے کے سی آر نے فرقہ وارانہ ایجنڈہ کو اختیار کرنے کا من بنالیا ہے اور رکن اسمبلی کا ریالی میں شرکت کرنا اس کا ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر رکن اسمبلی نے پارٹی کی اجازت کے بغیر رام مندر فنڈنگ ریالی میں شرکت کی ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ ریالی کے دو دن گزرنے کے باوجود ٹی آر ایس قیادت کی خاموشی معنیٰ خیز ہے۔ دہلی میں نریندر مودی اور امیت شاہ سے ملاقات کے بعد کے سی آر خوفزدہ ہیں اور سیکولرازم سے ہندوتوا ایجنڈہ کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس حقیقی معنوں میں سیکولر پارٹی ہے تو اسے رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاستی وزراء عوام کے درمیان کے سی آر کو ملک کے واحد سیکولر چیف منسٹر قرار دیتے ہیں لیکن رکن اسمبلی کرانتی کرن کے رام مندر کے حق میں فنڈس جمع کرنے پر خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور کے ٹی آر کو اس معاملہ میں وضاحت کرنی ہوگی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ رکن اسمبلی کے ذریعہ کے سی آر نے بی جے پی کے ایجنڈہ پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے سیکولر رائے دہندوں کی تائید سے ٹی آر ایس برسر اقتدار آئی ہے لہذا سیکولرازم کو ثابت کرنے کیلئے رکن اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ 2023 ء میں شکست کے خوف سے کے سی آر بی جے پی سے قربت حاصل کر رہے ہیں اور عین ممکن ہے کہ اسمبلی انتخابات تک دونوں پارٹیوں میں مفاہمت ہوجائے گی۔