اکولہ ۔ 8 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں بہت سوں کیلئے دسہرہ کا دن راون پر رام کی فتح یابی کے طور پر منایا جاتا ہے جو برائی پر اچھائی کی کامیابی کی علامت تصور کیا جاتا ہے مگر مہاراشٹرا کے ایک چھوٹے سے گاؤں کے رہنے والے اس جوش و جذبہ کے ساتھ رام کے بجائے راون کی پوجا کرتے ہیں۔ اکولہ کے ایک گاؤں سنگولا میں 10 سر، 20 ہاتھ والے راون کا ایک بہت بڑا سنگ سیاہ میں مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔ اس بت کی مقامی لوگوں کے موجب 200سال سے برابر پوجا کی جارہی ہے۔ دسہرہ کے دن جہاں راون کا پتلا ملک کے مختلف حصوں میں نذرآتش کیا جاتا ہے وہیں سنگولا میں راون کی دانشمندانہ اور راہبانہ خصوصیات کی وجہ سے پرستش کی جاتی ہے۔ یہ بات ایک مقامی پجاری ہری بھاولکھاڑے نے بتائی۔ بعض سینئر شہریوں کے بیان کے مطابق راون بہت بڑا عالم تھا۔ اس گاؤں کے رہنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ہمارا خیال ہیکہ راون نے سیتا کا اغوا سیاسی اسباب کیلئے کیا اور ان کے تقدس و پاکیزگی کا تحفظ کیا۔ ہم رام پر ایمان رکھتے ہیں مگر ہمارا ایقان راون پر بھی ہے۔