سورت : گجرات میں سورت کی سیشن عدالت نے ہتک عزت کیس میں کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی ضمانت میں آج توسیع کردی اور راہول کی جانب سے اس کیس میں اپنی سزا کو چیلنج کرنے والی اپیل دائر کرنے کے بعد 13 اپریل کو سماعت مقرر کی ہے۔ راہول نے پیر کو سورت سیشن کورٹ میں دو درخواستیں داخل کیں۔ ان میں سے ایک میں ضمانت کی درخواست کی گئی جب کہ دوسری درخواست سزا کو منسوخ کرنے کی ہے ۔ 52 سالہ کانگریس لیڈر دوپہر میں سورت کی سیشن کورٹ پہنچے ۔ اُن کے ساتھ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اور وزرائے اعلیٰ بھوپیش بگھیل اور سکھویندر سنگھ سکھو بھی تھے۔ پرینکا کو دہلی سے انڈیگو کی فلائٹ میں راہول کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔2019 کے ہتک عزت کیس میں راہول کو گزشتہ ماہ دو سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن عدالت نے ان کی سزا کو 30 دن کیلئے معطل رکھتے ہوئے انہیں اپیل کی اجازت دے دی تھی۔ تحت کی عدالت کی طرف سے دی گئی سزا پر روک لگانے کی درخواست پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ اس درخواست پر عدالت نے درخواست گزار پورنیش مودی کو نوٹس جاری کیا ہے جس پر انہیں 10 اپریل تک حلف نامہ داخل کرنا ہوگا۔ عدالت نے پہلے کانگریس لیڈر کو اپنے حکم کے خلاف اپیل کرنے کے لیے 30 دن کا وقت دیا تھا۔ راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوٹ اور کانگریس کے رکن راجیہ سبھا کے سی وینوگوپال بھی پارٹی کے دیگر قائدین کے علاوہ شہر میں موجود تھے۔ واضح رہے کہ ویاناڈ سے سابق ایم پی کو 23 مارچ کو چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ایچ ایچ ورما کی عدالت نے کرناٹک میں 2019 میں ان کے ’’مودی کنیت ‘‘کے تبصرہ پر ہتک عزت کے مقدمے میں قصوروار ٹھہرایا اور دو سال کی سزا سنائی۔ راہول کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ بی جے پی ایم ایل اے اور گجرات کے سابق وزیر پرنیش مودی نے یہ کہنے پر دائر کیا تھا کہ ’’سب چوروں کی مشترکہ کنیت مودی کیسے ہے؟‘‘