وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی کاوشیں بھی رائیگاں۔ کرناٹک میں تاریخی کامیابی کے بعد مختلف ریاستوں میں پارٹی قائدین کے حوصلے بلند
حیدرآباد ۔13 مئی (سیاست نیوز) کرناٹک میں آج انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد کانگریس کی تاریخ ساز کامیابی نے ملک کی مختلف ریاستوں میں کانگریسی قائدین کے حوصلہ بلند کردئے ہیں جو قابل مبارکباد ہیں۔ کرناٹک کے تمام طبقات کے عوام جنہوں نے نفرت کی سیاست کرنے والوں کو سبق سکھادیا اور بتادیا کہ ظالم کی عمر کم ہوتی ہے کیونکہ بھارتیہ جنتا پارٹی مسلسل نفرت انگیز تقاریر اور ہندو مسلم تفرقہ پیدا کرکے دوبارہ اقتدار کا خواب دیکھ رہی تھی جبکہ انتخابی مہم میں قدآور قائدین بشمول وزیراعظم بھی لگاتار روڈ شو کرکے عوام کو بی جے پی کی سمت راغب کرنے کی کوشش کرتے رہے تاہم کانگریس قائدین کی محنت بالخصوص راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا اور پرینکا گاندھی نے بہت ہی اچھے انداز میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے بیروزگاری، مہنگائی، غریبی پر جو تقاریر کی ہیں، اس پر عوام نے بھی کافی توجہ دی ۔ رائے دہی سے ایک ہفتہ قبل چکمگلور کے علاقہ میں انتخابی جلسہ سے خطاب میں پرینکا گاندھی نے انتہائی دکھ بھرے انداز میں کہا تھا کہ اس علاقہ میں میری دادی عوام کو خطاب کررہی تھیں اور ہلکی بارش ہورہی تھی یہ اتفاق دیکھئے بھگوان کا آشیرواد ہے، کہ میں بھی آج اسی میدان میں آپ سے پارٹی کیلئے ووٹ مانگنے آئی ہوں اور بارش ہورہی ہے ۔ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ آج میرے بھائی راہول گاندھی پر فرضی الزامات لگا کر پارلیمنٹ سے دور کردیا گیا لیکن یہ میرا یقین ہے کہ گاندھی خاندان کی قربانیوں کو دیکھتے ہوئے پھر ایک بار کرناٹک عوام کانگریس کو طاقتور بنائیں گے۔ ہمارا وعدہ ہیکہ ہم آپ کی ترقی کیلئے خود کو وقف کردیں گے کیونکہ آج موجودہ حکومت دولت اور طاقت کے بل بوتے پر حق کی بات کو دبانے کی کوشش میں ہے اور میرا بھائی بھی مشکل وقت سے گذر رہا ہے۔ مرکزی حکومت کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے۔ وزیراعظم کا روڈ شو، امیت شاہ کی حکمت عملی ناکارہ ثابت ہوگئی۔ کانگریس نے ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی دور سے ہی برتری برقرار رکھی تھی۔ 224 رکنی اسمبلی میں کانگریس نے تاریخی کامیابی حاصل کرکے 136 نشستیں جیتی ہیں جبکہ بی جے پی صرف 64 نشستوں میں سمٹ کر رہ گئی۔ جے ڈی ایس کا غرور تھا کہ وہ اس نتائج کے بعد بادشاہ گر کے موقف میں آجائے گی اور کمارا سوامی جوش و خروش سے کیمپ کی سیاست شروع کر رہے تھے جن کو صرف 20 نشستوں پر کامیابی ملی۔ کانگریس کی اس شاندار کامیابی کے اسباب پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہیکہ راہول گاندھی نے بھارت جوڑو یاترا کے ذریعہ ملک کے ہر شخص کی آنکھیں کھول دی، جس کا پھل انہیں کرناٹک میں پارٹی کی شاندار کامیابی کے ذریعہ عوام نے دیا۔ دوسری سب سے اہم بات یہ ہیکہ پرینکا کی سیاسی لہر نے عوام کے دلوں پر پھر ایک بار آنجہانی اندرا گاندھی کی چھاپ چھوڑی۔ ان کا یہ سیاسی انتخابی مہم کا بڑا حصہ کامیابی کا راز کہلائے گا۔ اس لئے کہ پرینکا گاندھی وہ آندھی ہے جس نے اپنی دادی کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سیکھا ہے۔ اس آندھی کا رخ جب تلنگانہ کی سمت ہوگا تو یقینا اس علاقہ میں یہ آندھی طوفان کی شکل اختیار کرلے گی کیونکہ پرینکا گاندھی کا انداز بیاں اور شکل و صورت کو دیکھتے ہی اندرا گاندھی کی یادیں تازہ ہوجاتی ہیں۔ بھائی اور بہن کی انتخابی مہم کرناٹک کی عوام کے فیصلہ پر ہر علاقہ میں چرچے ہیں اور کانگریس کی ملک میں ہر ریاست پر کامیابی کی قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں۔ یہ بات بتانا ضروری ہوگا کہ نفرت کی کوئی سرزمین نہیںہوتی۔ یہ ہمیشہ محبت کی زمین پر قبضہ کرتی ہے۔ لہٰذا چوکنا رہنے اور فرقہ پرستوں کے عزائم کو ناکام بنانے تمام طبقات کو متحد ہوکر سیکولرازم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔