مجلسی قائدین میں برہمی ، ٹوئیٹر پر راہول گاندھی نشانہ اور تنقیدیں
حیدرآباد۔20۔اکٹوبر(سیاست نیوز) راہول گاندھی اور امیت شاہ کے الزامات پر اسد الدین اویسی چراغ پا ہونے لگے ہیں اور اب کہہ رہے ہیں کہ تمام سیاسی جماعتیں پہلے اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ آخروہ(اویسی) ہیں کیا!بیرسٹر اسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد پر کانگریس قائد کے مسلسل حملوں پر اسدالدین اویسی مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم X سابقہ ٹوئیٹر کے ذریعہ راہول گاندھی کو راست نشانہ بناتے ہوئے ان پر تنقید شروع کردی ہے ۔ گذشتہ دنوں ہوئی پریس کانفرنس کے دوران اسدالدین اویسی نے کہا تھا کہ جو دہلی سے آرہا ہے وہ انہیں نشانہ بنا رہاہے ۔ انہوں نے امیت شاہ کے حوالہ سے کہا کہ امیت شاہ جب تلنگانہ میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اسٹیرنگ ان کے ہاتھ میں ہے اور جب راہول گاندھی تلنگانہ میں انتخابی مہم چلاتے ہیں تو وہ انہیں ’بی ٹیم‘ کہتے ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کی جانب سے مسلسل مجلس کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجہ میں جو صورتحال پیداہونے لگی ہے اس پر بیرسٹر اسدالدین اویسی چراغ پا ہونے لگے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ دونوں ہی سیاسی جماعتیں تلنگانہ کے انتخابات کے اختتام تک مجلس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انتخابی مہم چلائیں گی۔ راہول گاندھی نے شہر کے نواحی علاقہ تکو گوڑہ میں ہوئے جلسہ عام کے دوران مجلس پر خوب تنقید کی تھی اور انہوں نے گذشتہ یوم اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی مجلس اور بی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ہی سیاسی جماعتیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ کام کر رہی ہیں اسی لئے تینوں سیاسی جماعتوں سے چوکنا رہنا چاہئے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی قائدین برسراقتدار جماعت بھارت راشٹرسمیتی کو نشانہ بنانے کے لئے مجلس اور بی آر ایس کے اتحاد کو نشانہ بنارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تلنگانہ میں حکومت بی آر ایس کی ہے لیکن اس حکومت کا اسٹیرنگ اسدالدین اویسی کے ہاتھ میں ہے جبکہ اس مسئلہ پر ریاستی وزیر کے ٹی راماراؤ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی آر ایس کی کار کا اسٹیرنگ مکمل طور پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے ہاتھ میں ہے اور مجلس کا اسٹیرنگ اسدالدین اویسی کے ہاتھ میں ہے لیکن اس کے باوجود کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے مسلسل مجلس کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔دونوں قومی سیاسی جماعتوں کی جانب سے مجلس کو مسلسل نشانہ بنائے جانے پر مجلسی قائدین میں برہمی پائی جانے لگی ہے۔