راہول گاندھی کو یاترا کی اجازت دینے سے منی پور حکومت کا انکار

   

امن و ضبط کی ناقص صورتحال کا حوالہ، بی جے پی حکومت کے فیصلہ سے سیاسی ماحول گرم
حیدرآباد۔/10 جنوری، ( سیاست نیوز) ملک میں کانگریس قائد راہول گاندھی کی دوسرے مرحلہ کی بھارت جوڑو نیائے یاترا سے بی جے پی کے خوفزدہ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ منی پور کی حکومت نے راہول گاندھی کو یاترا کے آغاز کی اجازت سے انکار کیا ہے۔ راہول گاندھی 14 جنوری کو منی پور کے امپھال سے نیائے یاترا کا آغاز کرنے والے تھے۔ منی پور جہاں گذشتہ کئی ماہ سے صورتحال کشیدہ ہے اور مختلف قبائیلی گروپس کے درمیان تشدد جاری ہے لہذا ریاستی حکومت نے امن و ضبط کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی کو یاترا کے آغاز کی اجازت سے انکار کیا ہے۔ منی پور میں بی جے پی حکومت ہے اور راہول گاندھی کو یاترا کی اجازت سے انکار پر ملک بھر میں سیاسی ماحول گرم ہوسکتا ہے۔ حکومت نے امن و ضبط کی صورتحال کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ 3 مئی 2023 سے کئی علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ منی پور میں ہندو اور عیسائی قبائیلی گروپس آپس میں متصادم ہیں اور تشدد میں سینکڑوں ہلاکتیں واقع ہوچکی ہیں۔ کانگریس نے2 جنوری کو یاترا کے آغاز کیلئے منی پور حکومت کے پاس درخواست داخل کی تھی۔ 66 روزہ نیائے یاترا منی پور سے شروع ہوکر 20 مارچ کو ممبئی میں ختم ہونے والی ہے۔ یاترا کے تحت 15 ریاستوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ منی پور حکومت کے فیصلہ پر کانگریس نے سخت تنقید کی ہے۔ واضح رہے کہ لوک سبھا انتخابات سے قبل راہول گاندھی نے بھارت جوڑو نیائے یاترا کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پہلے مرحلہ کی یاترا کی طرح راست طور پر عوام سے ربط قائم کیا جاسکے۔ کانگریس کو امید ہے کہ راہول گاندھی کی یاترا سے پارٹی کو فائدہ ہوگا اور کارکنوں کے حوصلے بلند ہوں گے۔1