کے سی آر نے وزیر داخلہ کی قیامگاہ پر عید ملاپ میں شرکت کی، روایتی استقبال اور ظہرانہ کا اہتمام
حیدرآباد۔/23 اپریل، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ماہِ مقدس رمضان المبارک کے دوران عبادات کے ذریعہ قرب الٰہی حاصل کیا جاتا ہے۔ اس ماہِ مقدس کے ذریعہ انسانیت کی خدمت، غریبوں سے ہمدردی اور نیک اعمال کا جذبہ فروغ پاتا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے عیدالفطر کے موقع پر وزیر داخلہ محمد محمود علی کی سرکاری قیامگاہ پر عید ملاپ تقریب میں شرکت کی اور مسلم معززین کے ساتھ ظہرانہ میں حصہ لیا۔ چیف منسٹر کی روایت ہے کہ وہ عیدالفطر کے دن وزیر داخلہ کی قیامگاہ پہنچ کر تقریب میں شریک ہوتے ہیں۔ چیف منسٹر کو وزیر داخلہ نے اس سال بھی عید کے موقع پر شرکت کی دعوت دی تھی۔ ریاستی وزراء، عوامی نمائندوں اور ٹی آر ایس قائدین کے ہمراہ کے سی آر منسٹرس کوارٹرس پہنچے۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی اور ان کے افراد خاندان نے چیف منسٹر کا استقبال کیا۔ چیف منسٹر کو تہنیت پیش کی گئی اور خصوصی عطر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر چیف منسٹر نے معززین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے رمضان المبارک میں روزہ کی اہمیت اور نیک اعمال کی ترغیب سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک باہمی بھائی چارہ، محبت اور انسانیت دوستی کی تعلیم دیتا ہے۔ تلنگانہ میں عید اور تہوار تمام طبقات باہم شیروشکر ہوکر مناتے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے حکومت نے تمام عید و تہواروں کو سرکاری طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کے سی آر نے اس موقع پر موجود بی آر ایس قائدین سے نام بہ نام مخاطب ہوتے ہوئے بغلگیر ہوکر مبارکباد پیش کی۔ تلنگانہ تحریک میں ابتداء سے شامل رہے اقلیتی قائد ستار گلشنی سے چیف منسٹر نے انتہائی جذباتی انداز میں ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر ریاستی وزراء کے ایشور، پرشانت ریڈی، ستیہ وتی راٹھور، پی اجئے کمار، ارکان پارلیمنٹ کے کیشو راؤ، جے سنتوش کمار، ارکان مقننہ کڈیم سری ہری، مدھو سدن چاری، پی راجیشور ریڈی، ڈی ناگیندر، صدرنشین وقف بورڈ مسیح اللہ خاں، صدرنشین حج کمیٹی محمد سلیم، میئر حیدرآباد وجیہ لکشمی، سابق میئر بی رام موہن، صدرنشین سیول سپلائیز کارپوریشن رویندر سنگھ، اقلیتی قائد معید خاں اور دوسرے موجود تھے۔ چیف منسٹر کا وزیر داخلہ کے افراد خاندان سے تعارف کرایا گیا۔ چیف منسٹر کا استقبال کرنے والوں میں وزیر داخلہ محمود علی، ان کے فرزند اعظم علی اور پوترے محمد فرقان احمد شامل تھے۔ر