رمضان المبارک پر بھی یوکرینی جنگ کے اثرات نمایاں

   

لندن: اس سال دنیا بھر میں رمضان کے اسلامی مہینے کا آغاز ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب یوکرین کی جنگ کے سبب یورپ اور دیگر خطوں میں عوام کو توانائی کے بحران اور شدید مہنگائی کا سامنا ہے۔رمضان کا چاند کئی ملکوں میں بشمول سعودی عرب، مصر، شام اور متحدہ عرب امارات میں نظر آنے کے بعد وہاں 2 اپریل کو پہلا روزہ رکھا گیا۔ رمضان کے مہینے میں مسلمان خاندانوں میں روزہ کھولنے کے وقت خاص طور سے مہمان نوازی کی روایت برسوں سے چلی آرہی ہے کیونکہ اس میں سماجی تعلقات کو دوستانہ بنانے، بھائی چارگی کا اظہار کرنے اور ایک دوسرے کیساتھ مل کر افطار کرنے کو دینی اقدار کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مرتبہ مسلم دنیا کو بھی روس کی یوکرین پر فوج کشی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی کا سامنا ہے۔ساری دنیا میں تیل اور گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ مسلم معاشرے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کے بعد رواں برس استقبال رمضان شاندار انداز میں چاہتے تھے لیکن ان کی یہ خواہش بھی خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی نذر ہو گئی۔دنیا کو روس کی یوکرین پر فوج کشی کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتِ حال کا سامنا ہے۔ پہلے دنیا کے قریب دو ارب مسلمان کووڈ انیس کی وبا کی وجہ سے اپنی خوشیوں کا اظہار نہیں کر سکے اور اب اس یوکرینی جنگ نے بنیادی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ان کے پاس اظہارِ مسرت کا سامان محدود ہو کر رہ گیا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کئی مسلم آبادی والے ممالک میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو مہنگائی کی وجہ سے بنیادی اشیا کی خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔