رمضان کے دوران دونوں شہروں کی مساجد میں سربراہی آب مسدود

   

قدیم روایت کو ختم کرنے سے لاکھوں مصلیوں کو مشکلات کا سامنا
حیدرآباد۔19فروری(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں ماہ رمضان المبارک کے دوران جہاں پانی کی قلت ہوان مساجد کے لئے محکمہ آبرسانی کے ذریعہ مفت پانی کے ٹینکر کی سربراہی عمل میں لانے کی روایت کو ختم کردیا گیا ہے!ریاستی حکومت کی جانب سے ماہ رمضان المبارک کے دوران مساجد میں عبادتوں کے لئے پہنچنے والوں کو سہولتوں کی فراہمی کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات میں زائداز1000 مساجد کو مفت پانی کے ٹینکر سربراہ کئے جاتے تھے لیکن جاریہ سال ماہ رمضان المبار ک کے آغاز کے باوجود شہر کی کئی مساجد کے ذمہ دار محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں اور دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں اور عہدیدارواضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس سلسلہ میں انہیں کوئی احکام موصول نہیں ہوئے ہیں اور جب تک احکامات جاری نہیں کئے جاتے اس وقت تک مساجد کے ذمہ داروں کو ماہ صیام کے لئے پانی کے ٹینکر خرید کر استعمال کرنے ہوں گے۔ بیگم بازار کے علاقہ مچھلی مارکٹ میں جہاں انتہائی قدیم مسجد نقشبندیہ شہاب الدین موجود ہے اس مسجد میں ہر نماز کے دوران سینکڑوں مصلی نماز ادا کرنے کے لئے پہنچتے ہیں لیکن گذشتہ کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ایسا ہورہا ہے کہ محکمہ آبرسانی کی جانب سے مسجد میں وضو کے لئے پانی کی سربراہی سے محکمہ آبرسانی کے عہدیدار انکار کر رہے ہیں۔ مسجد شہاب الدین نقشبندیہ کے ذمہ داروں نے بتایا کہ گذشتہ کئی برسوں سے ماہ رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مسجد کے ذمہ داروں کی جانب سے درخواست داخل کئے جانے کے ساتھ ہی ٹینکر کی سربراہی کا سلسلہ شروع ہوجایا کرتا تھا لیکن جاریہ سال عہدیداروں کو متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے علاوہ منتخبہ عوامی نمائندوں سے بات کروانے کے باوجود ماہ رمضان المبارک کے آغاز کے بعد بھی پانی کے ٹینکر کی سربراہی سے انکار کیا جارہا ہے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں نے اس سلسلہ میں دریافت کرنے پر بتایا کہ اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی ہیں اسی لئے مذکورہ مسجد یا دونوں شہروں کی کسی بھی غیر سرکاری مسجد میں پانی کے ٹینکرس کی سربراہی کا آغاز نہیں کیاگیا ہے ۔ بیگم بازار میں واقع مذکورہ مسجد کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ وہ جاریہ ماہ کے اوائل سے ہی محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کو مکتوبات روانہ کرنے کے علاوہ انہیں مسلسل توجہ دلوا رہے ہیں اور اعلیٰ عہدیداروں سے بھی اس سلسلہ میں نمائندگی کی جاچکی ہے لیکن اس کے باوجود بھی پانی کے ٹینکرس کی سربراہی کا سلسلہ شروع نہیں ہوپایا ہے ۔ انہو ںنے بتایا کہ مسجد میں بورویل ناکارہ ہونے کے نتیجہ میں پانی مصلیوں کی سہولت کے لئے فوری طور پر وضو کے پانی کا انتظام کیا جانا ضروری ہے۔3