ہریش راؤ کا الزام، ممنوعہ فہرست کے باوجود اراضی پر کنٹرول، حیڈرا کی عدم کارروائی
حیدرآباد۔ 5 اپریل (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ڈپٹی لیڈر ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ میں کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد سے کسانوں اور دلتوں کی اراضیات کو ناجائز طریقہ سے ہڑپ کیا جارہا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے رنگاریڈی ضلع کے نادرگل میں 7000 کروڑ مالیت کی اراضی پر وزیر مال پی سرینواس ریڈی کے افراد خاندان کی کمپنیوں کی جانب سے ناجائز قبضے کا انکشاف کیا۔ انہوں نے چیف منسٹر ریونت ریڈی سے مطالبہ کیا کہ حیڈرا اور دیگر اداروں کے ذریعہ فوری کارروائی کرتے ہوئے غیر مجاز تعمیرات کو منہدم کیا جائے اور قصورواروں کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ کئی نسلوں سے کاشت کرنے والے کسانوں کے حقوق بحال کئے جائیں۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت یا حیڈرا کارروائی میں ناکام ہوتے ہیں تو بی آر ایس قائدین پیر کے دن نادرگل کا دورہ کرتے ہوئے غیر مجاز تعمیرات منہدم کریں گے۔ تلنگانہ بھون میں ہریش راؤ نے نادرگل سے تعلق رکھنے والے کسانوں سے ملاقات کرتے ہوئے تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ سروے نمبر 613 میں 373 ایکر قیمتی سرکاری اراضی پر ناجائز قبضہ کیا گیا جبکہ ہائی کورٹ نے اراضی کے سرکاری ہونے کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ سینئر کانگریس قائدین پر اپنے سیاسی اثرات کا استعمال کرتے ہوئے پولیس کی مدد سے ناجائز قبضہ کا الزام عائد کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ جن کی ذمہ داری عوامی اثاثہ جات کا تحفظ کرنا ہے وہ خود قابضین میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 600 کسان کئی نسلوں سے اراضی پر کاشت کررہے ہیں لیکن انہیں اراضی کے حق سے محروم کردیا گیا۔ اراضی پر بانسرس کو متعین کیا گیا اور کسانوں کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ کسانوں کو اراضی پر دعویداری ترک کرنے کے لئے رقومات کی پیشکش کی جارہی ہے۔ ہریش راؤ نے بتایا کہ شیوراج بہادر نامی شخص نے 2016 میں غیر قانونی طور پر یہ اراضی الفا، اومیگا اور یونیٹیک جیسے اداروں کو فروخت کی جبکہ لینڈ سیلنگ ایکٹ کے تحت فروخت پر پابندی ہے۔ کندوکور کے آر ڈی او نے اراضی معاملت کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے دھرانی پورٹل پر مذکورہ اراضی ممنوعہ فہرست میں شامل کردی۔ آر ڈی او کے فیصلے کے حق میں ہائی کورٹ کے سنگل اور پھر ڈیویژن بنچ نے اکتوبر 2022 میں فیصلہ دیا۔ عدالت نے غیر مجاز قابضین کے خلاف فوج داری کارروائی کی ہدایت دی اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر کوئی حکم التواء جاری نہیں کیا۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس حکومت نے بھوبھارتی پورٹل شروع کیا جس میں یہ اراضی ممنوعہ فہرست میں شامل ہے۔ حکومت کے ریکارڈ اور عدالت کے فیصلے کے باوجود ریاستی حکومت اراضیات کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے۔ سابق چیف منسٹر آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے 2008 میں سرکاری اراضی قرار دیتے ہوئے اسے انڈسٹریل انفرااسٹرکچر کارپوریشن کے حوالہ کیا تھا۔ بی آر ایس کے دور میں اراضی کا تحفظ کیا گیا اور ممنوعہ فہرست میں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کوہ نور گروپ اور شلپا انفرا اور دیگر ادارے جن کا تعلق وزیر مال سرینواس ریڈی کے افراد خاندان سے ہے نے اراضی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس معاملہ میں وزیر مال کے فرزند ملوث ہیں جو شلپا انفرا اور کرسٹل منشن انڈیا پرائیویٹ لیمیٹیڈ جیسے اداروں میں ڈائرکٹر ہیں۔ اراضی پر کمپنی کے بورڈس اویزاں کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ اراضی کا کچھ حصہ لچماں کنٹہ جھیل کے ایف ٹی ایل حدود میں شامل ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ حیڈرا کو غریبوں کو نشانہ بنانے میں دلچسپی ہے لیکن لچماں کنٹہ کی اراضی کے تحفظ میں کوئی دلچسپی نہیں۔ 1؍ F ؍ M