روزنامہ سیاست کی پیش قیاسی سچ ثابت ہونے کی طرف رواں دواں

   

ہندوستان میں حالت مزید سخت اور سنگین ہونے کے خدشات
لوک سبھا میں وزیراعظم نریندر مودی کی تقریر سے تصدیق کا اشارہ
حیدرآباد۔23۔مارچ(سیاست نیوز) ہندستان میں حالت مزید سخت اور سنگین ہونے کے خدشات میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے اور خود وزیر اعظم نریندر مودی نے لوک سبھا میں کی گئی اپنی تقریر کے دوران ہندستانیوں سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل کے ساتھ سکون سے رہیں ۔ روزنامہ سیاست نے اپنے 13مارچ کے شمارے میں ہی ان حالات کی پیش قیاسی کرتے ہوئے عوام کو محتاط رہنے کی اپیل کرتے ہوئے گیاس و تیل کی قلت کے سبب پیدا شدہ صورتحال کے متعلق خبر میں لاک ڈاؤن کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔ ملک میں پکوان گیاس کی قلت کے ساتھ ہی جس طرح کے حالات پیدا ہوئے ہیں ان حالات میں اب بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے کیونکہ کمرشیل گیاس سیلنڈر کی قلت اب بھی جاری ہے اور اس کے منفی اثرات نظر آرہے ہیں۔ دنیا میں پیدا شدہ جنگی حالات کے فوری طور پر بہتر ہونے کے امکانات موہوم ہونے کے بعد اب یہ کہا جارہاہے کہ ہندستان کی معیشت بھی ان حالات سے بری طرح متاثر ہوسکتی ہے اور اگر جنگ مزید طویل ہوتی ہے تو حالات انتہائی ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔ عوام کو ان حالات سے نمٹنے کے لئے تیار رہناچاہئے کیونکہ اب خودحکومت نے ایوان میں اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ ہندستان میں حالات مزید ابتر ہونے کا خدشہ ہے۔ ’روزنامہ سیاست‘ نے 13 مارچ کو شائع خبر میں جن اندیشوں کا اظہار کیا تھا ان کے مطابق کورونا وائرس کے طرز پر لاک ڈاؤن کے حالات پیدا کرتے ہوئے عوام کو سڑکوں پر نکلنے سے روکنے کے اقدامات کئے جائیں گے تاکہ گیاس‘ تیل ‘ پٹرول ‘ ڈیزل کی قلت پر عوام کی برہمی پر قابو پایا جاسکے۔ہندستان کے بیشتر صنعتی شہروں میں جہاں صنعتوں میں لاکھوں افراد ملازمت حاصل کرتے ہیں ان صنعتوں میں گیاس کی قلت کے سبب انہیں بند کیا جانے لگا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں ان شہروں سے نوجوان اپنے خاندانوں کے ساتھ واپس اپنے مواضعات کو روانہ ہونے لگے ہیں۔سورت میں کئی صنعتی اداروں کو بند کردیئے جانے کے بعد کہا جار ہاہے کہ ملک کے دیگر شہروں میں جہاں مختلف ریاستوں سے روزگار کے متلاشی نوجوان پہنچتے ہیں وہ اپنے مواضعات کو واپس ہونے لگے ہیں اور سرکردہ صنعتیں جو روزگار فراہم کرتی ہیں وہ بند کی جانے لگی ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ ملک بھر میں گیاس کی قلت کے نتیجہ میں ’’پکوڑے تلنے کا کاروبار ‘‘ بھی بری طرح سے متاثر ہوا ہے۔ اس طرح کے سخت حالات کی پیش قیاسی کے بعد ہندستانی شہریوں کو چاہئے کہ وہ فضول خرچی کا سلسلہ فوری اثر کے ساتھ بند کرنے کے علاوہ گیاس‘ پٹرول اورڈیزل کے استعمال میں بھی احتیاط کا اپنے طور پر آغاز کردیں تاکہ مستقبل قریب میں پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لئے ہم اپنے طور پر تیار رہیں اور کسی بھی طرح کے مشکل حالات کا سامنا کرسکیں۔3