روس۔پاکستان تعلقات میں بہتری کا ادعا

   

سرگئی لاروف کی نو برس بعد سرکاری دورے پر پاکستان آمد
اسلام آباد : پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ روس خطے کا انتہائی اہم ملک ہے، پاکستان کے اس سے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔ روس کے وزیر خارجہ نو سال بعد پاکستان کا دورہ کررہے ہیں۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سرگئی لاروف کا دورہ پاکستان اور روس کے مابین بڑھتے ہوئے باہمی رابطوں اور باضابطہ اعلیٰ سطح کے تبادلے کا ایک حصہ ہے۔ اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جون 2019 میں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس اور ستمبر 2020 میں ماسکو میں ایس سی او کونسل آف وزرائے خارجہ (سی ایف ایم) کے اجلاس کے موقع پر وزیر خارجہ لاروف سے ملاقات کی تھی اور انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے دورہ پاکستان سے متعلق ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے دو طرفہ تعلقات میں بہتری آ رہی ہے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ خطے میں تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں۔ نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن منصوبے کو ہم دونوں آگے بڑھانا چاہتے ہیں، ہمارے ہاں جب آٹے کا بحران پیداہوا تو روس نے ہمیں بروقت گندم فراہم کی، روسی وزیر خارجہ کے ساتھ دو طرفہ تجارت کے فروغ کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس، مل کر افغان امن عمل میں کردار ادا کر رہے ہیں، 18 مارچ کو ماسکو میں ایک سہ فریقی اجلاس ہوا جس میں پاکستان نے شرکت کی، دشنبے میں میری ایمبیسڈر ضمیر کابلوف کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ایمبیسڈر ضمیر کابلوف کیساتھ افغان امن عمل میں ابھرتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔