برکس نہ تو کوئی فوجی اتحاد ہے اور نہ ہی اجتماعی سلامتی کا ادارہ، روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف کا انٹرویو
ماسکو : 15 فبروری ( ایجنسیز ) روسی نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے ان تاثر کو مسترد کیا ہے کہ برکس معاشی بلاک کو فوجی اتحاد میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ریایبکوف نے ہفتے کو سرکاری خبر رساں ایجنسی طاس سے ایک انٹرویو میں کہا کہ برکس نہ تو کوئی فوجی اتحاد ہے اور نہ ہی ایسا اجتماعی سلامتی کا ادارہ ہے جس پر باہمی فوجی امداد کے تقاضے عائد ہوں۔ریابکوف نے کہاکہ یہ کبھی اسی شکل میں تصور نہیں کیا گیا تھا، اور برکس کو اسی سمت میں تبدیل کرنے کے کوئی منصوبے نہیں ، اور دلیل دی کہ اس 10 رکنی بلاک کے دائرہ کار میں فوجی مشقیں یا ہتھیاروں پر کنٹرول شامل نہیں ہے۔ریابکوف نے یہ بھی انکار کیا کہ حال ہی میں جنوبی افریقہ میں ہونے والی بحری مشقیں ‘‘برکس ایونٹ’’ تھیں، اور کہا کہ جن ممبران نے حصہ لیا وہ اپنے قومی کردار میں شریک ہوئے۔ وہ 9 تا 16 جنوری کو وال فار پیس 2026 مشقوں کا حوالہ دے رہے تھے جن میں چین، ایران اور روس شامل تھے۔جب پوچھا گیا کہ کیا برکس ارکان کے ٹینکروں کو حملوں سے بچا سکتا ہے اور ان کی حفاظت کو یقینی بنا سکتا ہے تو ریابکوف نے کہا کہ اس بلاک کے پاس لاجسٹکس بہتر کرنے اور پابندیوں سے بچاؤ کو مضبوط کرنے کے علاوہ کوئی ایسا اختیار نہیں ہے، اور سیکیورٹی کو دوسرے ذرائع سے یقینی بنایا جانا چاہیے۔برکس 2009 میں برازیل، روس، ہندوستان اور چین کی طرف سے قائم کیا گیا تھا اور جنوبی افریقہ 2010 میں اس میں شامل ہوا۔ بعد ازاں مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایتھوپیا، انڈونیشیا اور ایران بھی شامل ہوئے، جس سے گروپ 11 ارکان تک پھیل گیا، اور اس کے ساتھ 10 شراکت دار ممالک بھی ہیں۔روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ برکس ممالک کے درمیان تجارت کی ترقی عالمی اوسط سے نمایاں طور پر زیادہ ہے، یہ اشارہ ہے کہ برکس، کسی قسم کے ’جادوئی چھڑی‘ کے بغیر بھی، دراصل مسائل کے حل میں معاون بن سکتا ہے۔ریابکوف نے کہا کہ برکس ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکتا ہے اور اسے کرنا چاہیے، اور ماسکو اور بیجنگ اس ملک کے ساتھ رابطے میں ہیں اور تہران اور واشنگٹن کے مابین مذاکرات کے لیے “مناسب سیاسی ماحول” فراہم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ان کے بقول ان مذاکرات پرتوجہ مبذول ہے جو ایران اپنے شراکت داروں کے ساتھ کر رہا ہے، اس کام پر جو ایران بالواسطہ طور پر ، بنیادی طور پر عرب ثالثوں کے ذریعے، امریکیوں کے ساتھ کر رہا ہے،” جس کے بارے میں انہیں یقین ہے کہ یہ جاری رہے گا۔