کیف: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بورودیانکا کی صورتحال کو بوُچہ سے بھی ابتر قرار دیا ہے۔ زیلنسکی کے بقول اس شہر میں روسی مظالم کے شکار شہریوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے تاہم مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔ یوکرین کے وزیر داخلہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ بورودیانکا دارالحکومت کیف کے ارد گرد کے شہروں میں سب سے زیادہ تباہ ہونے والا علاقہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق روسی فوجیں قریب ایک ہفتہ پہلے اس علاقے سے نکل چُکی تھیں۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ روس ان علاقوں میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔ روس ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ایلچی نے مالی کے ایک گاؤں ’مورا‘ تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان اسٹیفن دوجارک کے مطابق اس علاقے میں قتل عام کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران ہلاکتوں اور ہجرت کر جانے والوں کی اصل تعداد معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اسے مالی کے مسلح تنازعے میں بدترین ظلم قرار دیا۔ یہ قتل عام مبینہ طور پر مقامی اور روسی افواج نے کیا تھا۔