کیف ۔ 4 اکتوبر (یو این آئی) یوکرین کے سرکاری گیس گرڈ آپریٹر نفتوگاز نے جمعہ کو اعلان کیا کہ روس نے 2022 میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد سے ملک کی گیس کی پیداواری تنصیبات پر راتوں رات سب سے بڑا حملہ کردیا ہے۔ اس حملے میں 35 میزائل اور 60 ڈرون استعمال کیے گئے۔ روسی فوج نے رات کے وقت حملوں کی ایک سیریز میں بار بار یوکرین کے بجلی کے گرڈ کو نشانہ بنایا۔ بجلی کی بندش سے بعض اوقات لاکھوں افراد اندھیرے میں ڈوب گئے۔ درجہ حرارت صفر سے نیچے گرنے پر ہیٹنگ سپلائیز کو کاٹ دیا گیا۔یوکرین کی سرکاری گیس کمپنی نفتوگاز نے ایک بیان میں کہا کہ راتوں رات دشمن نے جنگ کے آغاز کے بعد سے گیس کی پیداوار کے بنیادی ڈھانچے پر سب سے بڑا حملہ کیا ہے۔ یوکرین کی وزیر اعظم یولیا سویریڈینکو نے ٹیلی گرام کے ذریعہ روس پر الزام لگایا کہ وہ شہریوں کو دہشت زدہ کر رہا ہے اور انہیں سخت سردی میں گرم کرنے کی ڈیوائسز سے محروم کرنا چاہتا ہے۔نجی آپریٹر نافتو گاز اور ڈی ٹی ای کے کے مطابق روسی حملے نے خارکیف (شمال مشرقی) اور پولٹاوا (وسطی) علاقوں میں گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ نافتو گاز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین سرہی کوریٹسکی نے شہری تنصیبات کے خلاف ماسکو کی جان بوجھ کر دہشت گردی کی مذمت کی اور کہا اس حملے کے نتیجے میں ہماری تنصیبات کے ایک اہم حصہ کو نقصان پہنچا اور کچھ نقصان شدید نوعیت کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے فوجی طور پر بے معنی ہیں اور ان کا مقصد صرف اور صرف ہمیں سردیوں میں یوکرین کے گھروں کو گرم کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنا ہے۔یوکرین کی فضائیہ کے مطابق روس نے راتوں رات یوکرین میں 381 ڈرونز اور 35 میزائل داغے جس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی ذریعہ نے اطلاع دی کہ 18 میزائل اور 78 ڈرونز نے اہداف کو نشانہ بنایا اور دیگر میزائلوں اور ڈرونز کو روک لیا گیا۔ روسی فوج نے کہا ہے کہ اس نے یوکرین کے ملٹری- صنعتی کمپلیکس اور گیس اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے جو اس کے آپریشنز کو سپورٹ کرتا ہے پر اعلی درستی والے ہتھیاروں سے بڑے حملے کیے ہیں۔