ماسکو : روس شہری علاقوں میں جنگی مہارت کے حامل شامیوں کو یوکرین میں لڑائی کیلئے بھرتی کررہا ہے جبکہ اس نے لڑائی کا دائرہ یوکرینی شہروں تک پھیلا دیا ہے یہ انکشاف وال اسٹریٹ جرنل نے چارامریکی عہدیداروں کے حوالے سے کیا ہے۔ان کا کہنا ہیکہ روس شامی جنگجوؤں کو یوکرین جنگ میں جھونک رہاہے۔اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہیکہ’’روس نے حالیہ دنوں میں شام میں جنگجوؤں کو بھرتی کیا ہے اور اسے امید ہیکہ شہری علاقوں میں ان کی جنگی مہارت یوکرین کے دارالحکومت کیف پرقابض ہونے میں مدد دے گی۔اس طرح یوکرین کی حکومت کو تباہ کن دھچکا لگے گا۔ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہیکہ شامی جنگجو پہلے ہی روس میں موجود ہیں اور وہ یوکرین میں داخل ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔ شام کے مشرقی شہردیرالزور سے تعلق رکھنے والے ایک خبری ادارے نے ایک رپورٹ میں کہا ہیکہ روس نے شامی رضاکاروں کو یوکرین جانے کیلئے 200سے 300ڈالرتک دینے کی پیشکش کی ہے اوران سے کہا ہیکہ وہ وہاں 6 ماہ تک محافظ کے طور پر کام کریں۔وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ سے تین روز قبل روسی صدرولادیمیر پوٹن نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ یوکرینی فوج شہریوں کوانسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہی ہے اور مشرقِ اوسط سے تعلق رکھنے والے ’’غیرملکی گماشتہ جنگجو‘‘برسرزمین روسی فوجیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔انھوں نے کہا تھاحقیقت یہ ہیکہ ہم نونازیوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔
یہ ان کی کارروائیوں سے ظاہروباہر ہے۔قوم پرست اور نونازیوں کی صفوں میں غیرملکی گماشتہ جنگجوموجود ہیں۔ان میں مشرقِ اوسط سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی ہیں اور وہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں اوران کے پیچھے خود چھپنے کی کوشش کررہے ہیں۔روس کی یوکرین میں فوجی مداخلت کو 12 دن گزرچکے ہیں۔دنیا کی حکومتوں کے حکام اور انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق روس کی فوجی کارروائیاں اپنے شیڈول سے بہت پیچھے ہیں اورروسی فوج کو کیف کی افواج کی جانب سے غیرمتوقع مزاحمت کا سامنا ہے۔
یوکرین کے حکام نے روس کی فوجی پیشقدمی کے ساتھ ہی اپنے دروازے ان تمام غیرملکی رضاکاروں کیلئے کھول دیے تھے جو ملک میں آکر روسی فوج کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں۔