ریاستیں عوام میں خوف پیدا نہ کریں : نئے وزیر صحت

,

   

ٹاملناڈو اور دہلی سمیت کئی ریاستو ں کا مرکز کو ویکسین کی قلت سے متعلق انتباہ

نئی دہلی : ایسی ریاستیں جہاں کووڈ ویکیسن کا وافر اسٹاک موجود نہیں ہے وہ اب ایسے بیانات جاری کررہی ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں جبکہ اس طرح عوام میں خوف پیدا کیا جارہا ہے ۔ نئے مرکزی وزیر صحت منسکھ منڈاویا نے ہندی زبان میں ایک دو نہیں بلکہ پورے چھ ٹوئیٹس کرتے ہوئے ریاستو ں پر بدنظمی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تمام ریاستو ں کو ویکسین کی دستیاب فراہمی کے بارے میں قبل از وقت مطلع کردیا گیا تھا لیکن ان ریاستو ں نے دستیابی کے مطابق منصوبہ بندی نہیں کی ۔ انہوں نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک ویکیسین کی دستیابی کا سوال ہے تو مجھے مختلف حکومتوں اور قائدین کی جانب سے مکتوبات موصول ہوئے ہیں ۔ اس صورتحال کو حقائق کا تجزیہ کرتے ہوئے بہتر طور پر جانا جاسکتا ہے ۔ بے کار بیانات جاری کرتے ہوئے عوام میں خوف پیدا کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے اپنے ٹوئیٹ میں مزید کہا کہ مرکز نے ریاستو ں کو 19جون کو مطلع کیا تھا کہ جو لائی کے مہینے میں ویکسین کی کتنی خوراکیں دستیاب رہیں گی ۔ اس کے بعد 27 جون اور 13جولائی کو بھی ریاستوں کو جولائی کے پہلے اور دوسرے پندھرواڑہ میں دستیاب ویکسین کی مقدار کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر مطلع کیا جاتا رہا ۔ اب جبکہ ریاستو ں کو یہ تمام معلومات قبل از وقت فراہم کردی گئی تھی ۔ لہذا ان کو معلوم تھا کہ ویکسین کب اور کتنی تعداد/ مقدار میں دستیاب رہے گی ۔ مرکزی حکومت نے یہ کام اس لئے کیا تاکہ ریاستیں اسی کے مطابق منصوبہ بندی کریںا ور ٹیکہ اندازی کیلئے عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ یاد رہے کہ مسٹر منڈاویا کا ٹوئیٹ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب کئی ریاستوں بشمول دہلی اور ٹاملناڈو نے مرکز سے ویکسین کی قلت کی شکایت کی ہے ۔ جاریہ ہفتہ وزیر اعلیٰ ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن نے وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب تحریر کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ ریاست کو ویکسین کی مناسب مقدار سربراہ نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات ، راجستھان اور کرناٹک ریاستوں کو ویکسین کی وافر مقدار سربراہ کی گئی ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ ٹیکہ اندازی کی مہم میںجس طرح تیزی پیدا کی جارہی ہے اس سے ان افواہوں / خبروں کو تقویت مل رہی ہے جہاں وزیراعظم نریندر مودی نے کووڈ کی تیسری لہر کا انتباہ دیتے ہوئے عوام کو ماسک کا استعمال بدستور جاری رکھنے اور سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھنے کی ہدایت کی تھی ۔