ریاستی کابینہ کا آج اجلاس، اسمبلی اجلاس اور دیگر اہم فیصلے متوقع

   

۔ 50 ہزار جائیدادوں پر تقررات کیلئے نوٹیفکیشن کو منظوری کا امکان
حیدرآباد۔15 ۔ستمبر (سیاست نیوز) ریاستی کابینہ کا 16 ستمبر کوچیف منسٹر کی زیرصدارت منعقد ہونے والا اجلاس کافی اہمیت کا حامل ہے۔ دیڑھ ماہ بعد کابینہ کا اجلاس منعقد ہورہا ہے جس میں کئی اہم امور پر فیصلوں کا امکان ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریاست میں کسانوں کو دھان کی کاشت سے روکنے کے بارے میں سرکاری سطح پر مہم چلانے کا فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا نے نئی پالیسی کے تحت چاول کی خریدی روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ میں کسانوں کو دھان کے بجائے دیگر فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ میں زیادہ تر کسان دھان کی کاشت کرتے ہیں اور جاریہ سال تلنگانہ میں بارش کے باوجود دھان کی کاشت ریکارڈ مقدار میں درج کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق مختلف محکمہ جات کی 50,000 مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے اعلامیہ کی اجرائی اور دلت بندھو اسکیم کی مزید چار منڈلوں میں توسیع سے متعلق فیصلے کئے جائیں گے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ربیع سیزن کے دوران تلنگانہ میں تقریباً 40 لاکھ ٹن چاول کا ذخیرہ گوداموں اور رائس ملز میں موجود ہے۔ مزید 1.41 لاکھ ٹن دھان میں اضافہ کا امکان ہے ۔ چیف منسٹر نے ڈسمبر 2020 ء میں 50,000 جائیدادوں پر تقررات کا اعلان کیا تھا۔ جولائی اور اگست کے کابینی اجلاسوں میں جائیدادوں کی تفصیلات کو قطعیت نہیں دی جاسکی تھی۔ وزیر فینانس ہریش راؤ کی قیادت میں کمیٹی نے مخلوعہ جائیدادوں پر چیف منسٹر کو رپورٹ پیش کی ہے۔ توقع ہے کہ کابینی اجلاس میں نوٹیفکیشن کی اجرائی کے لئے پبلک سرویس کمیشن کو اجازت دی جائیگی۔ حکومت 26 ستمبر سے قبل اسمبلی اجلاس طلب کرنے پر غور کر رہی ہے کیونکہ گزشتہ اجلاس کے بعد 6 ماہ کا عرصہ 26 ستمبر کو مکمل ہوجائے گا۔ حکومت ہر 6 ماہ کے دوران اسمبلی اجلاس طلب کرنے کی پابند ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ 22 ستمبر سے اسمبلی اور کونسل کے اجلاس کا آغاز ہوگا۔ R