ریاست تلنگانہ کا جملہ قرض 5 لاکھ کروڑ سے تجاوز

   

جاریہ مالیاتی سال ابھی تک 24,500 کروڑ روپئے کا قرض ، کاگ رپورٹ میں انکشاف

حیدرآباد ۔ 9 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست میں حکومت کا قرض بڑھ کر 5 لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گیا ہے۔ گذشتہ سال مارچ 2022ء تک ریاست کا قرض 4.56 لاکھ کروڑ تھا۔ جاریہ مالیاتی سال ابھی تک 24,500 کروڑ روپئے قرض حاصل کیا گیا ہے۔ یہ اپوزیشن جماعتوں کے بتائے ہوئے اعدادوشمار نہیں ہے بلکہ محکمہ فینانس کے داخل کردہ تفصیلات ہے جس کو کاگ رپورٹ میں شائع کیا گیا ہے۔ جاریہ سال کے اواخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں جو بھی پارٹی کامیابی حاصل کرے گی اس کو اتنا بھاری قرض یقینا وراثت میں ملے گا اور اس پارٹی کو فلاحی اسکیمات، سرکاری ملازمین کے تنخواہوں کیلئے فینانشیل مینجمنٹ کرتے ہوئے قرض کی اصل قسط اور سود بھی ادا کرنا پڑے گا۔ ماہرین معاشیات نے کہا کہ جو بھی پارٹی کامیابی حاصل کرے گی، اس کیلئے یہ بہت بڑا چیلنج بن جانے کا خطرہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حال ہی میں حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کردہ کاگ رپورٹ کے مطابق مارچ 2022ء تک ریاستی حکومت نے حاصل کردہ بجٹ قرض 3,21,611 کروڑ ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے مختلف کارپوریشنس کو ضمانت دیتے ہوئے 1,35,283 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے۔ ان دونوں کو شمار کرلیا جائے اس کی قدر 4,56,894 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ مالیاتی سال 2022-23ء میں حکومت نے مزید 32,119 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا۔ جاریہ سال کارپوریشنس کیلئے کوئی ضمانت نہیں دی گئی۔ مرکزی حکومت کی عائد کردہ تحدیدات کی وجہ سے تلنگانہ حکومت بجٹ قرض تک محدود رہی جس کی وجہ سے مارچ 2023ء تک ریاست کا قرض 4,79,013 کروڑ تک پہنچ گیا۔ اپریل سے نئے مالیاتی سال 2023-24ء کا آغاز ہوا، جس میں ا پریل میں 2000 کروڑ، مئی میں 4000 کروڑ، جون میں 6000 کروڑ، جولائی میں 5000 کروڑ، اگست میں 5000 کروڑ، ستمبر میں 2,500 اس طرح 24,500 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا۔ اس کو شمار کرلیں تو ریاست کا جملہ 5,03,513 کروڑ تک پہنچ گیا ہے۔ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات منعقد شدنی ہیں جو وعدے عوام سے کئے گیء ہیں اس میں چند وعدوں کو سہی عمل کرنے بالخصوص اہم وعدوں کی تکمیل انتخابی شیڈول کی اجرائی سے قبل کرنا چاہتی ہے۔ عوام کو حکومت کی جانب سے مثبت پیغام دینے کیلئے زرعی قرض، ریتو بندھو اسکیم کے تحت خریف مالی امداد اور دلت بندھو کے علاوہ بی سی اور اقلیتوں کو سبسیڈی اسکیم پر عمل کررہی ہے اور اس کیلئے ابھی تک 24,500 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرچکی ہے۔ن
جبکہ واضح رہیکہ جاریہ سال جملہ 38,234 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کا بجٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے یعنی تخمینہ کے مطابق 64 فیصد قرض حاصل کرلیا گیا ہے۔ آئندہ 7 ماہ میں صرف 36 فیصد قرض حاصل کرنے کی گنجائش باقی رہ گئی ہے۔ن