ٹی آر ایس ‘ بی جے پی کے بعد کانگریس اور مجلس بھی میدان عمل میں۔ ترقیاتی کاموں پر سب کی توجہ
حیدرآباد۔3جنوری(سیاست نیوز) تلنگانہ میں قبل از وقت انتخابات کی تیاریوں کا تمام جماعتوں نے آغاز کردیا ہے اور بیشتر جماعتوں کے قائدین کی جانب سے انتخابی حکمت عملی اور تیاریوں کے ساتھ کارکنوں کو انتخابات کیلئے تیار رہنے تاکید کی جانے لگی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے تلنگانہ میں عاجلانہ انتخابات کے اشارے دیئے جانے کے بعد اب کانگریس قائدین کی جانب سے بھی قبل از وقت انتخابات کیلئے پارٹی کارکنو ںکو تیار کیاجانے لگا ہے۔ تلنگانہ کی سیاست میں اہم حامل مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے ترقیاتی کامو ںکے افتتاح اور سرگرمیوں اضافہ کے بعد کہا جانے لگا ہے کہ برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی نے آئندہ دو ماہ میں کسی بھی وقت اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تیاری کرلی ہے اور ذرائع کے مطابق حکومت تلنگانہ کی جانب سے ماہ مارچ میں عبوری بجٹ کی پیشکشی کے ساتھ ہی اسمبلی کی تحلیل کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔ چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے تلنگانہ کی پہلی اسمبلی معیاد کی تکمیل سے 9ماہ قبل تحلیل کرکے عام انتخابات کے ساتھ اسمبلی انتخابات کو ہونے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی تھی اور اس کے مثبت نتائج ملے تھے لیکن عام انتخابات میں بی جے پی کو تلنگانہ سے 4 ارکان پارلیمنٹ حاصل ہونے کے بعد اندازہ ہوا کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی نے قبل از وقت انتخابات کے انعقاد کے حالات کیوں پیدا کئے تھے ۔ بی جے پی کے بعد اب کانگریس اور مجلس کی سرگرمیوں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے کہا جانے لگا ہے کہ جس طرح سے سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں اور برسر اقتدار جماعت ترقیاتی کاموں اور مرکزی کے ساتھ الجھنے کی پالیسی اختیار کی ہوئی ہے تو موجودہ اسمبلی کو بھی 10ماہ قبل تحلیل کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹی آر ایس دیگر کسی ریاست کے ساتھ انتخابات نہ ہوں اس طرح کی حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے اور ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب ماہ مارچ 2022میں اسمبلی کی تحلیل کی جائے ۔ تلنگانہ کی موجودہ اسمبلی کی معیاد ڈسمبر 2023 میں ختم ہونے والی ہے لیکن اگر حکومت کی جانب سے اسمبلی تحلیل کی جاتی ہے تو ریاست میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کاگزار رہیں گے اور 6ماہ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کا اعلامیہ جاری کیا جائے گا لیکن اگر مرکز کی جانب سے انتخابی عمل رکوانے اقدامات کئے بھی جاتے ہیں جیسا کہ مرکزی وزیر داخلہ نے بالواسطہ کہا ہے کہ حکومت جو ممکن ہو کریگی تو تلنگانہ انتخابات کو عام انتخابات تک زیر التواء رکھنا مشکل ہوجائیگا اور یہی حکمت عملی ٹی آر ایس کی نظر آرہی ہے۔م