ریاست میں خاندانی نظام کو مستحکم کرنے حکومت کا بڑا قدم

   

طلاق، خاندانی تنازعات میں کمی کیلئے اضلاع میں پری میریٹل کونسلنگ سنٹرس کے قیام کافیصلہ

حیدرآباد۔21۔اکٹوبر(سیاست نیوز)ریاستی حکومت نے خاندانی نظام کو مضبوط بنانے‘ شادی سے متعلق بڑھتی شکایات کو کم کرنے اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے ایک تاریخی اور اصلاحی قدم اٹھایا ہے ۔ تلنگانہ کے 33 اضلاع میں پری میریٹل کونسلنگ سنٹرس (PMCES) قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔ ریاستی وزیر برائے خواتین و اطفال بہبود سیتکا نے اس سے متعلق فائل پر دستخط بھی کردی ہے ۔ یہ مراکز ایسے نوجوان جوڑوں کیلئے رہنمائی فراہم کریں گے جو ازدواجی زندگی میں قدم رکھنے جارہے ہیں تاکہ وہ باہمی احترام ، سمجھ بوجھ اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوسکیں ۔ ہر سنٹر میں ایک قانونی مشیر ، ماہر نفسیات ، سماجی کارکن اور ایک مددگار ہوگا جو شادی کرنے والے جوڑوں کو باہمی افہام ، تنازعات حل کرنے کے طریقے ، جذباتی مطابقت، قانونی حقوق اور ذمہ داریاں ، منفی حساسیت ، خاندانی اقدار اور تعلقات کی مضبوطی سے واقف کرائے گا۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ یہ اصلاحی اقدام نوجوان نسل میں سمجھ بوجھ اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرے گا جو مضبوط خاندانی ڈھانچہ کی بنیاد ہے ۔ ان مراکز میں خدمات انجام دینے والے عملہ کو ماہانہ 30 ہزار روپئے تنخواہ دی جائے گی۔ ایک تخمینہ کے مطابق ان مراکز کے قیام ، انتظام اور عملہ کی تنخواہوں پر سالانہ 5 کروڑ روپئے کے اخراجات ہوں گے ۔ ریاستی وزیر کی دستخط کردہ فائل کو حکومت سے رجوع کردیا گیا ہے ۔ محکمہ فینانس کی منظوری کے بعد ان مراکز کے قیام کیلئے کاموں کا آغاز کردیا جائے گا۔ پہلے مرحلہ میں یہ مراکز ’’سکھی‘‘ یا ’’ون اسٹاپ‘‘ سنٹرس میں قائم کئے جائیں گے ۔ اس کے بعد ضروریات کے لحاظ سے ان کی ذاتی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ حالیہ دنوں میں تلنگانہ ریاستی ویمن کمیشن ’’سکھی ‘‘ مراکز میں شادی اور خاندانی تنازعات سے متعلق شکایتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ باہمی سمجھ بوجھ کی کمی ، والدین کی غیر ضروری مداخلت ، چھوٹے خاندانوں میں تعلقات کی کمزوری اور بدلتا سماجی رویہ ان مسائل کی بڑی وجوہات ہیں۔ انہیں عوامل کے پیش نظر ان کونسلنگ سنٹرس کی ضرورت ہے تاکہ نوجوانوں جوڑوں کو ازدواجی زندگی کے تقاضوں سے پہلے ہی روشناس کرایا جائے گا ۔ 2