ریاست میں کورونا معائنوں کی کٹس کی بھی قلت پیدا ہوگئی

   

حکومت کی ہدایات کے باوجود یومیہ معائنوں کی تعداد میں کمی ۔آر ٹی پی سی آر معائنہ سے گریز
حیدرآباد۔تلنگانہ میں کورونا معائنوں کی تعداد میں کمی کے سلسلہ میں تحقیق پر انکشاف ہوا کہ کئی اضلاع میں معائنوں کی کٹس کی شدید قلت ہے جس کے سبب یومیہ 60تا70 ہزار معائنے کئے جا رہے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے مراکز پر عوام کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں اور مختلف علامات کا شکار مریض کورونا وائرس کا معائنہ کروانے پہنچ رہے ہیں لیکن ان کے معائنو ں کو یقینی نہیں بنایا جارہا ہے۔محکمہ صحت کے عہدیداروں نے عوام سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ بغیر کسی علامات کے کورونا معائنہ سے گریز کریں ۔ریاست میں کٹس کی قلت کے سبب پیدا شدہ صورتحال کے متعلق بتایا جا رہاہے کہ اضلاع میں کورونا معائنوں میں کمی کی وجہ سے ریاست میں گذشتہ 3-4 یوم سے 7 ہزار یا اس سے زائد مریضوں کی نشاندہی ہورہی ہے۔حکومت کی جانب سے وسیع پیمانے پر کورونا معائنوں کے اعلان کئے جا رہے ہیں لیکن کٹس کی قلت کی وجہ سے اگر کسی کو ریاپڈ اینٹی جین معائنہ میں کورونا کی توثیق ہوتی ہے تو اس کا آرٹی پی سی آر معائنہ نہیں کیاجا رہاہے اور ریاپڈ اینٹی جین کے نتیجہ کی بنیاد پر مریض کو کورونا پازیٹیو قرار دیا جا رہاہے جبکہ اگر مریض اگر آر ٹی پی سی آر خانگی طور پر کرواتا ہے تو کئی مرتبہ اسے ریاپڈ کے نتیجہ کے مخالف نتیجہ کو دیکھ کر حیرت ہونے لگی ہے۔محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق ریاست میںریاپڈ اینٹی جین معائنوں میں مثبت مریضوں کے آرٹی پی سی آر نہیں کئے جارہے ہیںتاکہ زیادہ لوگوں کے معائنوں کو یقینی بنایا جاسکے لیکن کٹس کی قلت سے مسلسل واقف کروائے جانے کے باوجود اس کو دور کرنے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں جو شہریوں کی زندگی سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔ شہر اور اضلاع میں خانگی لیباریٹریز کی جانب سے آرٹی پی سی آر معائنہ کیا جا رہاہے اور ان کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ انہیں آرٹی پی سی آر معائنوں کی کٹس کی قلت نہیں ہے لیکن معائنہ کروانے والوں کی تعدا د میں اچانک اضافہ کے سبب رپورٹ کی اجرائی میں کچھ تاخیر ہورہی ہے ۔