عدالت کا عرضی کو قبول کرنے سے انکار،دستوری آرٹیکل 29 اور 30 میں ’اقلیت‘ کی اصطلاح کا استعمال
نئی دہلی ۔ 20 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج اس عرضی کو قبول کرنے سے انکار کردیا جو کسی مخصوص برادری کی ریاست واری آبادی کی اساس پر اقلیتی درجہ عطا کرنے کیلئے رہنمایانہ خطوط مقرر کرنے اور لفظ ’میناریٹی‘ کی تشریح کے سلسلہ میں داخل کی گئی تھی ۔ جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس رویندر بھٹ کی بنچ نے ایڈوکیٹ اور بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے کو یہ عرضی واپس لینے کی اجازت دے دی اور انہیں آزادی دی کہ اس ضمن میں کوئی مناسب فورم سے رجوع ہونا چاہیں تو ہوسکتے ہیں۔ سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ وکاس سنگھ نے اپادھیائے کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ لفظ ’اقلیت‘ کی تشریح درکار ہے اور رہنمایانہ خطوط ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے ریاستی سطح پر اقلیتوں کی شناخت ہوسکے ۔ اس سلسلہ میں فاضل عدالت کے 2002 ء کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا ۔ سینئر ایڈوکیٹ نے کہا کہ اصطلاح میناریٹی کا دستور کے آرٹیکلس 29 اور 30 میں استعمال کیا گیا لیکن کہیں بھی اس کی صراحت نہیں کی گئی ہے۔