ریاست کے 21 اضلاع میں 10 تا 20 سنٹی میٹر بارش

   

پانی کے بہاؤ میں اضافہ کے بعد پراجکٹس کے مزید دروازے کھول کر پانی کا اخراج
چلی ندی میں ایک خاتون کی نعش دستیاب، ورنگل پھر ایک بار پانی میں ڈوب گیا، مزید تین دن بارش کی پیش قیاسی

حیدرآباد ۔ 31 ۔ اگست (سیاست نیوز)شہر حیدرآباد کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریاست کے 18اضلاع میں شدید اور شدید ترین بارش ریکارڈ کی گئی ہے جس سے ریاست کے تمام بڑے اور اہم پراجکٹس لبریز ہوگئے ہیں اور ان پراجکٹس کے مزید دروازے کھول کر پانی چھوڑا جارہا ہے ۔ ضلع جئے شنکر بھوپال پلی کی چلی ندی میں ایک نامعلوم خاتون کی نعش برآمد ہوئی ۔ شہر ورنگل پھر ایک مرتبہ پانی میں ڈوب گیا ۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 3 دن بارش ہونے کی پیش قیاسی کی ہے۔ سب سے زیادہ ضلع یادادری بھونگیر کے آلیر منڈل میں 19.43 سنٹی میٹر بارش ہوئی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے چیف سکریٹری سومیش کمار کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست کے تمام اضلاع کے کلکٹرس سے رابطہ میں رہیں اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کیلئے تمام احتیاطی اقدامات کرنے کا مشورہ دیا ہے ۔ ریاست کے 21 اضلاع میں 10 تا 20 سنٹی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری بارش اور مہاراشٹرا سے پانی کے بہاو کی وجہ سے عہدیداروں کی جانب سے ایس آر ایس پی کے 24 گیٹس کھول کر پانی چھوڑا جارہا ہے۔ ضلع نظام آباد میں واقع سری رام ساگر پراجکٹ لبریز ہوجانے پر عہدیداروں کی جانب سے پراجکٹ کے 16 گیٹس کھول کر 49.920 کیوسکس پانی نچلے حصہ میں جاری کیا جارہا ہے ۔ برقی پیداوار سے مزید 7500 کیوسکس پانی دریائے گوداوری میں شامل ہورہا ہے۔ ضلع کریم نگر میں زبردست بارش کی وجہ سے (ایل ایم ڈی) ذخیرہ آب لبریز ہوگیا۔ عہدیداروںکی جانب سے پراجکٹ کے 12 گیٹس کھول کر پانی خارج کیا جارہا ہے ۔ مہاراشٹرا میں ہونے والی بارش سے ضلع کاما ریڈی کے کولاس پراجکٹ میں بڑی تیزی سے پانی جمع ہورہا ہے ۔ عہدیداروں کی جانب سے 3 گیٹس کھول کر پانی چھوڑا جارہا ہے ۔ ریاست میں ایک ہفتہ سے جاری بارش کی وجہ سے تمام ندیاں ، تالاب لبریز ہوگئے ہیں ۔ کئی مقامات پر فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں ۔ کئی گاؤں میں عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے ۔ سڑکیں بہہ گئیں ۔ برقی سربراہی میں خلل پڑگیا ۔ شہر ورنگل پھرایک مرتبہ جل تھل میں تبدیل ہو گیا ۔ گھروں میں پانی داخل ہونے کی وجہ سے چاول ، کپڑے اور دوسری ضروریہ اشیاء پوری طرح پانی میں ڈوب گئے۔ N