ریاض میں امریکی سفارتخانے پرایران کا ڈرون حملہ

,

   

ریاض۔ 3 مارچ (ایجنسیز) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر منگل کی صبح ڈرون سے حملہ کیا گیا جس سے معمولی آگ لگ گئی۔ خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا ہے۔سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ واقعے میں معمولی آگ لگ گئی اور عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ ریاض کے جنوب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب پانچ ڈرونز کو مار گرایا گیا۔ اس کے علاوہ دو ڈرونز نے مشرقی صوبے میں راس تنورا آئل ریفائنری پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن گرائے گئے ڈرون کے ملبے کی وجہ سے ریفائنری میں معمولی آگ لگ گئی۔ کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ ڈرون حملے کا جلد جواب دے گا۔ ریاض میں امریکی سفارت خانے نے ریاض اور جدہ میں امریکی شہریوں کے لیے سفارت خانے کے احاطے سے دور رہنے اور گھر کے اندر رہنے کی ایڈوائزری جاری کی ہے۔یہ ڈرون حملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی جانب سے خلیجی خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب امریکی و اسرائیلی مشترکہ کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔