ریونت ریڈی پر تشدد کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام

   

ہم بھی چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھے ، اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا : ڈی سدھیر ریڈی
حیدرآباد ۔ 5 ۔ جولائی : ( راست ) : ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ڈی سدھیر ریڈی نے تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر ریونت ریڈی پر کانگریس کارکنوں کو بھڑکاتے ہوئے تشدد کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور دھمکیوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا انتباہ دیا ہے ۔ آج ٹی آر ایس ایل پی آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی سدھیر ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ پردیش کانگریس کی صدارت ملنے کے بعد ریونت ریڈی بے قابو ہوگئے ہیں اور اپنے ذاتی سیاسی مفادات کے لیے ریاست کے پرامن ماحول کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان دھمکیوں سے ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہیں بلکہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں ۔ مگر ان کی تہذیب و پرورش انہیں اس کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ سدھیر ریڈی نے کہا کہ وہ عوام کے درمیان رہ کر ہمیشہ ان کے مسائل کی یکسوئی کے لیے کام کرتے ہیں ۔ ان کی کارکردگی سے ایل بی نگر اسمبلی حلقہ کے عوام پوری طرح مطمئن ہیں ۔ انہوں نے ریونت ریڈی سے استفسار کیا کہ وہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد کبھی اپنے حلقہ پارلیمنٹ ملکاجگری کا دورہ نہیں کیا ۔ کورونا سے ڈر کر ریونت ریڈی گھر سے باہر نہیں نکلے ۔ کورونا سے متاثر ہونے والے عوام کی کوئی مدد نہیں کی ۔ عوامی خدمات انجام دینے کے بجائے عوام کے جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ کم از کم ریونت ریڈی ابھی سے عوامی مسائل پر جدوجہد کرنے کی کوشش کریں ۔ انہوں نے ریونت ریڈی سے سوال کیا کہ وہ اسپیکر اسمبلی کو استعفیٰ کیوں نہیں دیئے تھے ۔ آئندہ سے بے لگام زبان بات کرنے پر برداشت نہ کرنے کا انتباہ دیا ۔ ہم چوڑیاں پہن کر نہیں بیٹھے اور نہ ہی ہماری خاموشی کو کمزوری سمجھنے کی غلطی کریں ۔۔