ریوینو کے بعد داخلہ، رجسٹریشن و آبپاشی میں اصلاحات کی تیاریاں

   

اہمیت کے حامل محکمہ جات کی کارکردگی سے چیف منسٹر مطمئن نہیں، اعلیٰ عہدیداروں سے تجاویز طلب
حیدرآباد۔ ریوینو ڈپارٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے داخلہ، آبپاشی اور رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس محکمہ جات کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ مبذول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس طرح ریوینو ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کے خاتمہ کیلئے عہدیداروں کے اختیارات میں کمی کرتے ہوئے نیا قانون منظور کیا گیا اسی طرح محکمہ جات داخلہ، آبپاشی اور رجسٹریشن اینڈ اسٹامپس میں بھی اصلاحات کے نفاذ کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ چیف منسٹر دفتر کے ذرائع کے مطابق اعلیٰ عہدیداروں کو مذکورہ تینوں محکمہ جات میں اصلاحات کے سلسلہ میں تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر چیف منسٹر تینوں محکمہ جات کے موجودہ قوانین میں ترمیمات کو منظوری دے سکتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ 6 برسوں میں چیف منسٹر نے تمام محکمہ جات کی کارکردگی اور خاص طور پر عوامی خدمت کے جذبہ کے تحت عہدیداروں اور ملازمین کی خدمات کا جائزہ لیا۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر تینوں محکمہ جات کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور وہ مزید شفافیت پیدا کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اصلاحات نافذ کرسکتے ہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں کی ٹیم سے ہر محکمہ میں اصلاحات سے متعلق رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ پولیس، آبپاشی اور رجسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں بدعنوانیوں کا مکمل طور پر خاتمہ ہو اور عوامی مسائل کی یکسوئی میں درمیانی افراد کا کوئی رول نہ رہے۔ ریوینو ڈپارٹمنٹ میں جس طرح بدعنوانیاں اور کرپشن عروج پر تھا اسی طرح کی شکایات مذکورہ تینوں محکمہ جات سے موصول ہوئی ہیں۔ حالیہ عرصہ میں پولیس کے کئی عہدیدار آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات اور کرپشن کے معاملات میں گرفتار کئے گئے۔ اراضی معاملات اور دیگر سیول معاملات میں پولیس عہدیداروں کی مداخلت نے محکمہ کی کارکردگی کو متاثر کردیا ہے۔ چیف منسٹر نے طویل عرصہ سے وزارت داخلہ کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس طلب نہیں کیا تاہم وہ اصلاحات کی تجاویز کے ساتھ مذکورہ بالا تینوں محکمہ جات میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریاست میں جرائم کی شرح میں بتدریج اضافہ درج کیا گیا ہے اور پولیس مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں گذشتہ دو ماہ کے دوران قتل کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ امن و ضبط کی برقراری میں پولیس عہدیداروں کی طویل عرصہ تک ایک ہی مقام پر پوسٹنگ کو اہم رکاوٹ تصور کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر آئی پی ایس عہدیداروں کے بڑے پیمانے پر تبادلہ کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریوینو ڈپارٹمنٹ کے مختلف اُمور کی یکسوئی کے بعد چیف منسٹر کے پاس اگلا نشانہ وزارت داخلہ ہوگا۔ حالیہ عرصہ میں شہر کے کئی پولیس عہدیدار اے سی بی کی کارروائی میں گرفتار کئے گئے ہیں۔ فرینڈلی پولیسنگ کے نعرہ کو حقیقت میں تبدیل کرتے ہوئے عوامی مسائل کی بروقت یکسوئی اور امن و ضبط کی برقراری جیسے اُمور کے تحت چیف منسٹر وسیع تر اصلاحات اور تبدیلیوں کی تیاری کرچکے ہیں۔