’’کسان 26نومبر سے دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کی مورت بنے ہوئے ہیں‘‘
نئی دہلی : مشہور پوپ سنگر ریہانا اور آب و ہوا کی سرگرم نوجوان کارکن گریٹا تھنبرگ نے گذشتہ سال 26 نومبر سے دہلی کی سرحدوں پر مظاہرہ کررہے کسانوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔دونوں اسٹارس نے کہا کہ کسان برادری کے طرف سے اس قدر طویل جدوجہد اپنے آپ میں تشویشناک ہے اور ایسا معلوم ہورہا ہیکہ کسان احتجاج کی مورت بن گئے ہیں۔ کسانوں کی تحریک والے متعدد مقامات پر انٹرنیٹ خدمات بند کردئے جانے جیسی حکومت کی کارروائی پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک اخبار کے مضمون کو شیئر کرتے ہوئے ریہانا نے ٹویٹ کیا ، ‘‘ہم اس بارے میں بات کیوں نہیں کررہے ہیں؟’’انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کسان تحریک کو ہیش ٹیگ بھی کیا۔ ریہاناکے تبصرے کے بعد ، تھنبرگ بھی کسان تحریک کی حمایت میں آگے آئیں۔ اپنے ٹویٹ میں ، تھنبرگ نے کہا ، ‘‘ہم ہندوستان میں کسان تحریک کے تئیں متحد ہیں۔ دہلی میں یوم جمہوریہ کے تشدد کے بعد حکومت نے احتیاط کے طورپر سنگھو،غازی پور اورٹیکری سرحدوں پر کسان تحریک والے علاقوں میں ہفتے کو انٹرنیٹ خدمات معطل کردی تھیں اور بعد میں معطلی کی مدت منگل تک بڑھا دی گئی۔ ہریانہ حکومت نے بھی امن و قانون بنائے رکھنے کیلئے ریاست کے 17 اضلاع میں 31 جنوری کی شام تک موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل رکھی اور بعد میں اس کی مدت 3فروری تک بڑھا دی گئی۔