زیر حراست اسرائیلی اور فلسطینی خواتین و بچوں کے تبادلے پر مذاکرات

   

دوحہ: خبر رساں ادارے رائٹرز نے اطلاع دی ہے کہ قطر کے ثالثوں نے حماس کی طرف سے یرغمال بنائے جانے والی اسرائیلی خواتین اور بچوں کی رہائی کے بارے میں حماس کے عہدیداروں سے فوری طور پر بات چیت کی ہے تاکہ اس کے بدلے میں اسرائیل کی جیلوں سے 36 فلسطینی خواتین اور بچوں کی رہائی ممکن ہو سکے،جنہیں غزہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔قطر کی وزارت خارجہ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو تصدیق کی ہے کہ وہ حماس اور اسرائیلی حکام کے ساتھ ثالثی کے مذاکرات میں شامل ہے اور بات چیت میں قیدیوں کے ممکنہ تبادلے پر غور ہو رہا ہے۔وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے رائٹرز کو بتایا کہ ہم اس وقت تمام فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ خونریزی کا خاتمہ، قیدیوں کی رہائی اور اس بات کو یقینی بنانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے کہ یہ تنازعہ علاقے میں مزید نہ پھیلنے پائے۔رائٹرز کی اس رپورٹ کے جواب میں ایک اسرائیلی اہل کار نے صرف اتنا کہا کہ اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔قطر امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہفتے کی رات سے یہ مذاکرات کر رہا ہے۔ان مذاکرات کے بارے میں بریفنگ حاصل کرنے والے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے،تاہم کامیابی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں، کیونکہ دونوں فریق اب بھی کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اسرائیلی جیلوں سے 36 فلسطینیوں کی رہائی پر مرکوز ان مذاکرات کے بارے میں پہلے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ادھر غزہ میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کی تعداد بھی واضح نہیں ہے۔ تاہم بڑے پیمانے پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ حماس نے خواتین، بچوں، بوڑھوں اور فوجیوں کو ہفتے کے روز تحویل میں لے لیا تھا۔حماس اور اسرائیل کے ساتھ ماضی میں ثالثی کی کوششوں سے آگاہ ایک فلسطینی اہل کار نے رائٹرز کو بتایا کہ قطر اور مصر، گروپ کے ساتھ رابطے میں ہیں لیکن لڑائی کی شدت کی وجہ سے کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے بارے میں شکوک و شبہات موجود ہیں۔