سعودی عرب اور ہندوستان کا 18 ارب ڈالر کے منصوبے پر غور
ریاض : میڈیا کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہیکہ سعودی عرب اور ہندوستان بجلی کی ترسیل کیلئے زیر سمندر تاریں بچھانے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس سے ہندوستان کے مغربی ساحل کو سعودی عرب سے ملایا جا سکے گا۔یہ منصوبہ اس ایجنڈے کا حصہ بننے والا ہے جس پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے اگلے جمعہ کو نئی دہلی کے دورہ کے دوران بحث کی جائے گی۔ اس دورہ کا مقصد نومبر میں سعودی وزیر اعظم اور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہندوستان کے دورے کی تیاری کرنا ہے۔میڈیا کے مطابق ذرائع نے ہندوستانی میڈیا کو بتایا ہے کہ دونوں فریقوں میں ایک پاور نیٹ ورک کیلئے زیر سمندر کیبل پر بات چیت شروع کرنے کا امکان ہے۔ اس نیٹ ورک میں میں جنوبی ایشیا اور خلیجی ریاستیں شامل ہیں۔ اکنامک ٹائمزنے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات کیلئے اس منصوبے میں شامل ہونا ممکن ہے، اس منصوبے کے سرمائے کی لاگت اندازوں کے مطابق 15 سے 18 بلین ڈالر کے درمیان ہوسکتی ہے۔ تاہم یہ حتمی لاگت نہیں ہے۔اس پر فریقین کے غور اور خوض کے فیصلہ ہوگا ۔
ذرائع کے مطابق ہندوستان میں سعودی سفیر نے ٹاٹا گروپ، ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ، جے ایس ڈبلیو، اسٹرلائٹ پاور اور اڈانی جیسی بڑی کمپنیوں کو دعوت نامے بھیجے ہیں۔واضح رہے ہندوستان سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کے سفر کا پہلا پڑاؤ ہوگا جس کے بعد وہ انڈونیشیا، جنوبی کوریا اور جاپان بھی جائیں گے۔ہندوستان میں گجرات کے ساحل موندرا کی بندرگاہ اور بحیرہ عرب کی دوسری جانب امارات فجیرہ کے درمیان فاصلہ 1600کلومیٹر ہے۔ متبادل طور پر یہ کیبل 1200 کلومیٹر دور عمان سے بھی گزر سکتی ہے۔ اس فاصلہ میں سب سے زیادہ گہرائی 3.5 کلومیٹر ہے۔اس پراجکٹ سے دونوں ممالک کو زبردست فائدہ ہوگا۔