سابق مئیر ٹی کرشنا ریڈی بھی کانگریس میں شمولیت کے خواہاں!

   

مہیشورم حلقہ سے مقابلہ کا ارادہ ۔ بی آر ایس میں ٹکٹ ملنے کے امکانات موہوم

حیدرآباد 9 جولائی(سیاست نیوز) سابق مئیر ٹی کرشنا ریڈی کانگریس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں !بی آر ایس لیڈر و سابق مئیر ٹی کرشنا ریڈی کانگریس میں شمولیت کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں ۔ اگر بی آر ایس انہیں مہیشورم سے ٹکٹ دینے سے انکار کر تی ہے تو وہ کانگریس میں شامل ہو سکتے ہیں اور وہ مہیشورم سے مقابلہ کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ حلقہ مہیشورم میں قابل لحاظ مسلم آبادی ہے اور فی الحال اس کی نمائندگی وزیر تعلیم پی ۔سبیتا اندراریڈی کر رہی ہیں جو 2018 اسمبلی انتخابات میں کانگریس ٹکٹ پر منتخب ہونے کے بعد تلنگانہ راشٹرسمیتی میں شامل ہوگئی تھیں اور انہیں کابینہ میں شامل کیا گیا ہے۔ مہیشورم سے سبیتا اندراریڈی نے سابق مئیر کرشنا ریڈی کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی تھی لیکن بعد ازاں وہ بی آر ایس میں شامل ہوگئیں جس کے نتیجہ میں کرشنا ریڈی کی اہمیت کم ہوجانے کا دعویٰ کیا جانے لگا ہے لیکن اب جو صورتحال ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جا رہا کہ کرشنا ریڈی نے کانگریس قائدین سے رابطہ کرکے پارٹی میں شمولیت پر تبادلہ خیال شروع کردیا ہے کیونکہ انہیں بی آر ایس میں کوئی مستقبل نظر نہیں آرہا ہے اور حلقہ مہیشورم میں سبیتا اندراریڈی سے عوام بالخصوص مسلمانوں میں بے چینی میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ کہا جار ہاہے کہ مہیشورم کے مسلم ووٹر اب دوبارہ سیبتا اندرا ریڈی کو کامیاب بنانے کے حق میں نہیں جبکہ خود ریاستی وزیر اپنے فرزند کیلئے ٹکٹ کی کوشش میں مصروف ہیں۔ذرائع کے مطابق کانگریس اپنی اس نشست پر دوبارہ کامیابی کیلئے طاقتور امیدوار کو میدان میں اتارنے کی تیاری کر رہی ہے اور کانگریس قائدین کا کہناہے کہ مہیشورم میں کانگریس کا ووٹ بینک ہے اور اس حلقہ میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کانگریس کے ساتھ ہے اسی لئے وہ قابل قبول امیدوار کو میدان میں اتارنا چاہتی ہے جبکہ کرشنا ریڈی اگر کانگریس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں تو وہ کانگریس کے طاقتور امیدوار ثابت ہوسکتے ہیں۔م