سارہ شریف کے والد سمیت تین افراد پر فردِ جرم

   

لندن: برطانیہ میں تین افراد کو دس سالہ بچی سارہ شریف کے قتل کے میں ملزمین کے طور پر نامزد کر دیا گیا ہے۔اسکائی نیوز کے مطابق سرے پولیس نے بتایا کہ کراؤن پراسیکیوشن سروس نے سارہ کے والد عرفان شریف، ان کی اہلیہ بینش بتول اور عرفان شریف کے بھائی فیصل ملک پر فردِ جرم عائد کرنے کی منظوری دی۔تنیوں افراد پر بچی کے قتل کا باعث بننے کی فردِ جرم بھی عائد کی جائے گی۔ ان افراد کو گلڈ فورڈ میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔پاکستان سے دبئی کے راستے گیٹ وِک ایئرپورٹ لندن پہنچنے پر ان تینوں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔سرے پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ سارہ کی ماں کو اس تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کیا جا چکا ہے اور اسپیشلسٹ آفیسر اْن کی مدد کر رہے ہیں۔تینوں ملزمین نے سارہ شریف کی نعش ملنے سے ایک دن پہلے لندن سے پاکستان کا سفر کیا تھا۔سارہ شریف کی نعش 10 اگست کو لندن کے علاقے ووکنگ میں اْن کے گھر سے ملی تھی۔سارہ شریف کے پانچ بہن بھائی، جن کی عمریں ایک سے 13 سال تک ہیں، بھی 9 اگست کو تینوں نامزد افراد کے ساتھ پاکستان چلے گئے تھے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ سارہ شریف کو ’متعدد اور گہرے زخم آئے تھے۔خیال رہے کہ سارہ شریف کی والدہ پولش ہیں جن کی پاکستانی نڑاد عرفان شریف سے علیحدگی ہو گئی تھی۔