عوامی زندگی سے زیادہ آمدنی کی فکر، رات دیر گئے تک شراب کی فروخت افسوسناک
حیدرآباد۔/29 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے سالِ نو کے موقع پر شراب کی دکانات اور بارس کو رات دیر گئے تک کھلا رکھنے کی اجازت کی مخالفت کی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے حکومت کو نئے سال کی تقاریب پر تحدیدات عائدکرنے کی ہدایت دی تھی لیکن حکومت نے رات دیر گئے تک شراب کی فروخت کی اجازت دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے احکامات کی واضح طور پر خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اومی کرون وائرس کے خطرہ سے نمٹنے کیلئے ملک کی کئی ریاستوں میں نائیٹ کرفیو نافذ کیا گیا لیکن حیرت کی بات ہے کہ تلنگانہ حکومت شراب کی فروخت کی اجازت کے ذریعہ نیو ایئر تقاریب کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔ عوام کی زندگی سے زیادہ کے سی آر کو سرکاری خزانہ کی آمدنی کی فکر لاحق ہے۔ نئے سال کی تقاریب سے اگر کورونا کیسس میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے لئے حکومت ذمہ دار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کو مرکز اور ریاست دونوں نے دھوکہ دیا ہے۔ نریندر مودی نے سالانہ 2 کروڑ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی طرح کے سی آر نے ہر گھر کو ایک روزگار فراہم کرنے کا تیقن دیا تھا۔ دونوں پارٹیوں نے بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔ انہوں نے بی جے پی صدر بنڈی سنجے کی جانب سے ایک روزہ بھوک ہڑتال کو مضحکہ خیز قرار دیا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ ہینڈلوم اور پارچہ جات پر جی ایس ٹی کی شرح میں اضافہ کا فیصلہ بافندوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ ہینڈلوم شعبہ کا تحفظ کرنے کے بجائے مرکزی حکومت زائد بوجھ عائد کررہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت عوامی شعبہ کے اداروں کو خانگیانے کی مہم پر ہے اور کئی اہم اداروں کو کارپوریٹ شعبہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ خانگیانے کے عمل سے لاکھوں نوجوان روزگار سے محروم ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن چکی ہے۔ر