مجوزہ انتخابات کے اعلامیہ کے ساتھ ہی نئی کارروائیاں ، چیف الیکٹورل آفیسر کو فورم فار گڈ گورننس کا مکتوب
حیدرآباد۔20۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات 2018کے دوران رائے دہندوں کو راغب کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات نقدی‘ شراب‘ اشیاء ‘ ساڑیاں اور دیگر کی تقسیم کے سلسلہ میں درج کئے گئے کسی ایک مقدمہ کی بھی تاحال یکسوئی نہیں ہوئی ہے بلکہ اب انتخابات کے شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی ریاست میں نقد رقومات قیمتی دھات سونا‘ چاندی اور شراب کی ضبطی کی کاروائیاں شروع ہوچکی ہیں۔ فورم فار گوڈ گورننس کی جانب سے چیف الکٹورل آفیسر کو روانہ کردہ مکتوب میں بتایا گیا ہے کہ اسمبلی انتخابات 2018 کے دوران جملہ 3561 مقدمات درج کئے گئے تھے جن میں کسی ایک مقدمہ کی یکسوئی بھی نہیں کی جاسکی ہے۔ سربراہ فورم فار گوڈ گورننس مسٹر پدمنابھا ریڈی نے بتایا کہ تلنگانہ میں انتخابات کے سلسلہ میں شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کرتے ہوئے بھاری رقومات کی ضبطی اور قیمتی دھات سونے اور چاندی کو ضبط کئے جانے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی اس تلاشی مہم کے نتیجہ میں عام شہریوں اور تاجرین کو بھی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور کہا جا رہاہے کہ پولیس کی تلاشی مہم کے دوران جو رقم ضبط کی جاری ہے اسے واپس کرنے کا کوئی وقت متعین نہیں ہے۔ مسٹر پدمنابھاریڈی نے بتایا کہ اس طرح کی شکایات کے ازالہ کے لئے بھی اقدامات اور شہریوں میں شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ انہو ںنے مکتوب میں بتایا کہ شیڈول کی اجرائی کے ساتھ نقد رقومات منتقل کرنے والوں کو اس بات کا پابند بنایا جانا چاہئے کہ وہ 50ہزار سے زائد کی رقم اپنے ساتھ نہ رکھیں بلکہ اگر اس سے زائد رقم ان کے ساتھ ہے تو ایسی صورت میں اس سے متعلق دستاویزات بھی ساتھ رکھیں۔اس کے علاوہ سونے اور چاندی کے مقدارت کے متعلق وضاحت نہ ہونے کے نتیجہ میں شہریوں کو اور محکمہ پولیس دونوں کو مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی لئے چیف الکٹورل آفیسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ سونے اور چاندی کی مقدار کے متعلق بھی وضاحت کریں تاکہ عوام انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل کرتے ہوئے منظورہ مقدار میں ہی سونا چاندی کی منتقلی کریں ۔ فورم فار گوڈ گورننس کی جانب سے چیف الکٹورل آفیسر کو حوالہ کئے گئے مکتوب میں کہاگیا ہے کہ جو رقومات یا اشیاء ضبط کی جا رہی ہیں ان کے مسئلہ کواندرون 48 گھنٹے حل کرنے کے اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام کو ہونے والی تکالیف سے محفوظ رکھا جاسکے اور ضبط کردہ اشیاء کے مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی یقینی بنائی جاسکے۔