سدارمیا کیخلاف مقدمہ کی سماعت پرروک

   

بنگلورو، 11 جولائی (یو این آئی) کرناٹک کے وزیر اعلی سدارمیا کو کرناٹک ہائی کورٹ نے بڑی راحت دی ہے ،عدالت نے جمعہ کے روز بی جے پی کی جانب سے دائر مجرمانہ ہتک عزت کے مقدمہ میں نچلی عدالت کی کارروائی پر روک لگا دی ہے۔ 2023 اسمبلی الیکشن کی انتخابی مہم کے دوران کانگریس نے بی جے پی کے خلاف ایک متنازعہ اشتہار جاری کیا تھا۔ عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیا اور نچلی عدالت میں زیر التوا کیس پر عبوری روک لگا دی۔ وزیر اعلی کی جانب سے پیش ہوئے ایڈوکیٹ جنرل ششی کرن شیٹی نے عدالت میں دلیل دی کہ یہ کیس دوسرے کانگریسی لیڈروں کے مقدمہ سے ملتا جلتا ہے ۔ 4 جولائی کو ہائی کورٹ نے اسی معاملے میں نائب وزیر اعلی ڈی کے شیوکمار کے خلاف کارروائی پر روک لگا دی تھی۔ اس سال کے آغاز میں کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی اور کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو بھی اسی طرح کی عبوری ریلیف دی گئی تھی۔ بی جے پی نے مقامی اخبارات میں شائع کردہ اشتہارات پر شکایت درج کرائی تھی، جس میں سابقہ بی جے پی حکومت پر سرکاری محکموں میں پوسٹنگ اور ٹرانسفر کیلئے ’ریٹ اور کمیشن‘ وصول کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
بی جے پی نے ان الزامات کو جھوٹا اور پارٹی کی عوامی امیج کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا۔واضح رہے کہ مجرمانہ ہتک عزت کا مقدمہ 2023 میں شروع کیا گیا تھا، جب ٹرائل کورٹ نے بی جے پی کی شکایت کا نوٹس لیا تھا۔ہائی کورٹ نے سدارمیا کے خلاف فوجداری پٹیشن نمبر 9760/2025 کی کارروائی پر اگلے نوٹس تک روک لگا دی ہے ۔