رامچندر گوہا
ہندوستان کی ماقبل اور مابعد آزادی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایسے بے شمار پرتشدد واقعات کا پتہ چلتا ہے جس میں کئی ایک اہم شخصیتوں اور ممتاز سیاستدانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیاگیا خاص طورپر آزاد ہندوستان میں جن ممتاز سیاستدانوں کو قتل کیا گیا ان میں اندرا گاندھی ، اُن کے فرزند راجیوگاندھی ، بی جے پی لیڈر پرمود مہاجن نمایاںہیں ۔ اندرا گاندھی کو جس وقت اُن کے اپنے محافظین نے انتہائی بیدردی سے قتل کیا اس وقت اُن کی عمر 66 سال تھی ، اُن کے فرزند راجیو گاندھی کو صرف 46 سال کی عمر میں خودکش بم دھماکہ کے ذریعہ قتل کردیاگیا ۔ بی جے پی لیڈر پرمود مہاجن کو 56 سال کی عمر میں اُن کے اپنے سگے بھائی نے گولیوں سے بھون ڈالا ۔
آزاد ہندوستان میں جہاں پرتشدد واقعات میں سیاستدانوں کی زندگیوں کا خاتمہ کردیا گیا وہیں طیاروں کے حادثات کے ساتھ ساتھ سڑک حادثات میں بھی ممتاز سیاستدانوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ ان میں اندرا گاندھی کے فرزند سنجے گاندھی ، راجیش پائلٹ ، مادھو راؤ سندھیا ، ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی جیسے متحرک سیاستداں شامل ہیں۔ طیارہ حادثہ میں جس وقت سنجے گاندھی اپنی زندگی سے محروم ہوئے تب اُن کی عمر صرف 33 سال تھی ، راجیش پائلٹ کی جس وقت کار حادثہ میں موت ہوئی اُن کی عمر 55 سال تھی ۔ اسی طرح مادھو راؤ سندھیا طیارہ گرنے کے حادثہ میں 56 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ متحدہ آندھراپردیش کے طاقتور سیاستداں و چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی 2 ستمبر 2009 ء کو ایک طیارہ حادثہ میں موت کا شکار ہوگئے اس وقت اُن کی عمر 60 برس تھی ۔
واضح رہے کہ شنکر گوہا نیوگی کو سال 1991 ء میں قتل کیا گیا ، تب ان کی عمر صرف 48 سال تھی ۔ انھیں قتل کرنے کیلئے سرمایہ داروں اور مافیا نے کرایہ کے غنڈوں یا قاتلوں کی خدمات حاصل کی تھیں ۔ ان سرمایہ داروں کو شنکر گوہا سے اس لئے سخت نفرت تھی کیونکہ گوہا محنت کشوں میں احساس خودداری پیدا کررہے تھے ان میں یہ یقین پیدا کررہے تھے کہ وہ اس ملک کے دوسرے شہریوں کی طرح یہاں کے قدرتی وسائل پر مساویانہ حق رکھتے ہیں اور دستور ہند نے تمام شہریوں کو یکساں حقوق عطا کئے ہیں اس لئے وہ اپنے آپ کو کسی سے کمتر نہ سمجھیں اور کسی بھی طرح احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں ۔
راقم الحروف اس سے قبل بھی شنکر گوہا نیوگی پر مضمون تحریر کرچکاہوں جس کی انگریزی کے کئی موقر روزناموںبالخصوص دی ٹیلیگراف میں اشاعت عمل میں آچکی ہے ۔ اب میں نے ان کے بارے میں دوبارہ مضمون تحریر کیا ہے اور وہ بھی بہت زیادہ تجزیاتی انداز میں اور میں نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ مشہور و معروف سوشیالوجسٹ رادھا کرشنم نے حال ہی میں ایک غیرمعمولی کتاب تحریر کی ہے جس میں ان کی حیات اور کارناموں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی لکھا کہ ان کی زندگی اور کام کبھی کیامعنی رکھتے تھے اور آج کے در میں بھی کیا معنی و مطالب رکھ سکتے ہیں۔ راما کرشنم نے شنکر گوہا کی حیات اور کارناموں کے بارے میں جو کتاب لکھی ہے اس کا ٹائٹل یا عنوان Shanker Guha Niyogi : A Politician in Red and Greeen رکھا ہے ۔ اس کتاب میں مختلف شخصیتوں کے شخصی انٹرویز کے ساتھ ہندی میں موجود نادار و نایاب اور مستند و معتبر ذرائعوں سے بھی بھرپور استفادہ کیا گیاہے ۔ آپ کو بتادیں کہ 1943 ء میں ایک بنگالی گھرانہ میں آنکھیں کھولنے والے شنکر گوہا نیوگی 19 سال کی عمر میں بھلائی اسٹیل پلانٹ میں کام کرنے کیلئے پہنچے جو ہندوستان کی ازکار رفتہ دور سے جدیدیت تک پیشرفت کی ایک علامت تھی بہرحال شنکر گوہا نیوگی نے جلد ہی تنخواہ فراہم کرنے والی اس ملازمت کو خیرباد کہدیا اور پھر محنت کشوں کے حق میں سرگرم ہوگئے اور اپنا سارا وقت ایک طرح سے انھوں نے محنت کشوں یامزدوروں کے حقوق اور ان کے مفادات کے تحفظ میں لگادیا ۔ گوہا نے ایک قبائلی خاتون سے شادی کی اور پھر کانکنی سے وابستہ ورکروں کو منظم کرنا شروع کردیا ۔ انھوں نے جہاں محنت کشوں مزدوروں اور کانکنی ورکروں کے حق کیلئے لڑنا شروع کیا وہیں ماحولیات ، انصاف جیسے مسائل کے حل میں دلچسپی لینی شروع کی ۔ ان کا مطالبہ تمام ریاست کی آبی اور جنگلات کے متعلق پالیسی کو مقامی کسانوں اور قبائلیوں کے مفادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بنایا جائے بجائے اس کے کہ تجارتی اور صنعت کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے ان کا ایقان تھاکہ اگر حکومتیں مزدوروں اور کانکنی ورکروں کے مفادات کے تحفظ سے متعلق پالیسیاں بناتی ہیں پروگرامس پر عمل کرتی ہیں تو اس سے معاشرہ میں خوشحال اطمینانی کی لہر پیدا ہوگی ۔
بہرحال مزدوروں کے حقوق کیلئے پوری طاقت اور خاص طورپر دیانتداری سے لڑنے والے نیوگی کو 28ستمبر 1991ء میں اس وقت اُن کے گھر میں ہی گولی مارکر قتل کردیا گیا جب وہ حالت نیند میں تھے لیکن جن سرمایہ داروں نے اُنھیں قتل کروایا وہ آزاد ہیں ۔ عدالتوں نے اُنھیں چھوڑدیا ۔ اس کے باوجود ہم کہہ سکتے ہیں کہ نیوگی آج بھی ان لوگوں کے لئے ایک سبق ہے جو ناانصافی ، ظلم و جبر اور مزدوروں کے استحصال کے خلاف آواز اُٹھانا چاہتے ہیں ۔